خطابات مریم (جلد دوم) — Page 498
خطابات مریم تعالیٰ فرماتا ہے۔498 خطابات " قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله (آل عمران : 32) پس اس ارشاد کی روشنی میں آپ اپنے نفسوں کا جائزہ لیں کہ آپ کس حد تک آنحضرت ﷺ کے اُسوہ پر عمل کر رہی ہیں۔آپ میں بیشتر ایسی ہیں جنہیں قرآن کریم کا ترجمہ بھی نہیں آتا۔اور نہ ہی پتہ ہے کہ قرآن کریم ہمیں کن باتوں کے کرنے کا حکم دیتا ہے اور کن باتوں سے منع کرتا ہے۔آپ نے فرمایا دیہات میں اب بھی بہت سی رسوم نے جنم لے لیا ہے اگر ہم نے بھی وہی کچھ کرنا ہے جو دوسرے کرتے ہیں تو ہم میں کوئی فرق باقی نہیں رہ جاتا۔آپ اپنی زندگیوں میں انقلاب پیدا کریں۔پھر آپ نے حضرت مسیح موعود کی کتاب انوار الاسلام کا حوالہ دیا۔جس میں آپ نے فرمایا ہے جو میرے ساتھ چلنا نہیں چاہتا وہ مجھ سے علیحدگی اختیار کر لے۔اور ساتھ ہی آپ نے اس زمانہ کے مصائب کا نقشہ کھینچ دیا تھا۔پس مومن وہی ہے جوان مشکلات کے دور میں سچا اور ثابت قدم رہے گا۔اس لئے آپ اپنی سستیوں کو ترک کر دیں۔اپنی آئندہ نسل کو تمام بُرائیوں سے بچالیں اور بہترین رنگ میں ان کی تربیت کریں۔کیونکہ انہوں نے ہی آئندہ کی ذمہ داریاں سنبھالنی ہیں پھر آپ نے خواتین کو اپنے اندر اطاعت اور قربانی کا جذبہ پیدا کرنے کی اور اصلاح معاشرہ کی طرف توجہ دلائی۔جس پر حضور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز بہت زور دے رہے ہیں۔اگر ہم صحیح بیج بوئیں اور صحیح رنگ میں درخت کی آبیاری کریں تو وہ ہمیشہ شیریں پھل دیتا ہے۔اس طرح کی کوشش سے اپنی آئندہ نسل کی حفاظت کریں اور اُنہیں باخدا انسان بنا ئیں۔☆ ☆☆۔۔۔۔۔۔(سالانہ رپورٹ لجنہ اماءاللہ 1987ء)