خطابات مریم (جلد دوم) — Page 488
خطابات مریم 488 خطابات تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنی ذمہ داریوں کو نبھا نہیں سکتیں لیکن آج کے دور میں ہر لڑکا اور لڑکی تعلیم حاصل کر رہا ہے لیکن صرف دنیاوی تعلیم کافی نہیں دینی تعلیم کا آنا بھی ضروری ہے۔جس حد تک ممکن ہو اسے شوق سے پڑھیں۔یہ نہ میں سنوں کہ یہ بچی اپنی کلاس میں تو بڑی ہوشیار ہے لیکن قرآن شوق سے نہیں پڑھتی جن بچیوں نے ابھی تک ناظرہ نہیں پڑھا وہ ناظرہ پڑھیں۔ناظرہ کے بعد آپ ترجمہ پڑھیں اور اُردو میں پڑھ سکیں بہت اچھا ہے۔اُردو ہماری زبان ہے اسے بھولنا نہیں چاہئے جن کو نہیں آتی انہیں سکھانی چاہئے تا جرمن بھی سیکھیں انگریزی اُردو بھی بول سکیں لوگ بڑی زبانیں سیکھ لیتے ہیں۔اس لئے کہ ہمارا لٹریچر اُردو میں ہے۔پھر آپ کو پڑھا نا مشکل ہو جاتا ہے لیکن جو یہیں پیدا ہوئی ہیں کم اُردو آتی ہے تو جرمن میں ہی ترجمہ پڑھ لیں آہستہ آہستہ عمر کے مطابق اس کا ترجمہ سیکھیں۔تاریخ اسلام کا علم حاصل کریں جو جو کتابیں یہاں پر چھپتی ہیں اور یہاں ملتی ہیں ان کا مطالعہ کریں اور جو پڑھانے والیاں اور عہدیدار آپ کو سکھائیں ان کی پوری پوری اطاعت کرتے ہوئے آپ ان کو سیکھیں اور ان کے ساتھ تعاون کریں۔میں مبارک باد دیتی ہوں ان بچیوں کو جنہوں نے سٹیفکیٹ حاصل کئے اور جنہوں نے اچھے نمبر حاصل نہیں کئے ان سے بھی امید رکھتی ہوں کہ وہ آئندہ سال محنت کر کے آگے نکلنے کی کوشش کریں گی اور اگلی کلاس میں اس سے بھی زیادہ تعداد ہوگی کیونکہ جرمنی میں بفضل خدا بہت جماعت پھیل چکی ہے اور اکثریت یہاں پاکستان سے آئی ہوئی ہے خواتین اور مردوں کی مجھے بڑی خوشی ہوئی ہے خاص طور پر ناصرات کو دیکھ کر کیونکہ ہمیشہ ترقی کرنے والی قو میں حال کو نہیں بلکہ مستقبل کو دیکھتی ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا۔ہر شخص کو چاہئے کہ وہ دیکھتار ہے کہ کل کے لئے اس نے کیا کیا۔اس میں مسلمانوں کو توجہ دلائی ہے کہ تم یہ نہ دیکھو تمہارا آج کا زمانہ کیسا گزر رہا ہے تم کیسے ہو۔اپنی ترقیوں پر خوش نہ ہو جانا تم یہ دیکھو کہ کل کے لئے تم نے کیا کیا ہے۔تمہاری قربانیاں اگر اگلی نسل دینے کو تیار نہ ہوئی تو ضائع چلی جائیں گی وہ ایک نسل تک محدود ہو جائیں گی اور کوئی زندہ رہنے والی قوم ایک نسل پر خوش نہیں ہوتی۔اس کی ہر اگلی نسل پہلے سے زیادہ ترقی یافتہ پہلے سے زیادہ قربانی دینے والی پہلے سے زیادہ خلیفہ وقت کے احکام پر لبیک کہنے والی پہلے سے