خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 487 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 487

خطابات مریم 487 خطابات سمجھیں۔پندرہ سال کی عمر ناصرات کی عمر ہے۔پندرہ سال تک بچیوں کو اتنا ہو جانا چاہئے کہ جب وہ لجنہ میں قدم رکھیں تو پوری طرح اپنی ذمہ داریوں کو سنبھالنے والی ہوں۔یہ ٹھیک ہے کہ عمر کے ساتھ انسان کا تجربہ بڑھتا ہے۔علم بڑھتا ہے مشاہدہ بڑھتا ہے وہ تو بڑھتا رہے گا آپ کا لیکن جن بچیوں نے بچپن میں ناصرات کی ٹریننگ نہیں حاصل کی ہوگی اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس بچپن میں نہیں کیا ہوگا وہ اس تنظیم کی ذمہ داریوں کو نہیں اُٹھا سکیں گی۔رسول اللہ علی کے ذریعے ایک نئے معاشرے کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ایک ایسا معاشرہ جو دنیا میں مثالی معاشرہ تھا۔آپ جب بڑی ہو کر تاریخ اسلام پڑھیں گی تو آپ کو علم ہوگا کہ آج کی جو ترقی یافتہ قومیں ہیں انگریز ہیں یا جرمن یا فرانسیسی ہیں جو بڑی پرانی قو میں سمجھی جاتی ہیں انہوں نے جو کچھ سیکھا اور سب سے بڑی ROME کی EMPIRE تھی اس زمانے میں سب مسلمانوں سے سیکھا۔مسلمانوں کے زمانے میں جو انگریزوں کی حالت تھی جس طرح شہروں میں رہنے والے دوسروں کو جانگلی (جنگلی ) کہتے ہیں لیکن افسوس کہ مسلمان جو ساری دنیا پر چھائے تھے جنہوں نے ملک پر ملک فتح کئے تھے۔فرانس کے بارڈر تک پہنچ گئے تھے انہوں نے جب اسلام پر عمل کرنا چھوڑا تو وہی مسلمان جو ساری دنیا میں پھیلے ہوئے تھے وہ ذلت کے گڑھے میں جا پڑے جب تک وہ قرآن مجید کے حکموں پر چلتے رہے وہ ترقی کرتے گئے جب اُنہوں نے قرآن کی تعلیم کو چھوڑا تو اللہ تعالیٰ نے بھی اُن کو چھوڑ دیا لیکن خدا اپنے بندوں کو کبھی گمراہ نہیں چھوڑتا۔کبھی انہیں بھٹکتا ہوا نہیں چھوڑتا۔اسے بڑا پیار ہے اپنے بندوں سے اور بچیو تم سے تو بہت ہی پیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ۔تمہیں بھی اس سے اتنا ہی پیار کرنا چاہئے وہ سمجھتا ہے کہ بچے معصوم ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو بھیجا اس لئے بھیجا کہ وہ باغ جو آنحضرت نے لگایا تھا ( اور میری بچیو یا درکھو جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لیا جائے تو ان پر در و دضرور بھیجا کرو ) وہ سوکھ گیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آنے سے پھر اس باغ میں بہار آئی۔آپ اس کے ننھے منے پھول غنچے ، شگوفے ہیں جس طرح درختوں پر پھول کھلتے ہیں۔ننھی منھی کلیاں ہوتی ہیں۔بڑی ہماری نظریں ہیں آپ پر۔بڑی امیدیں وابستہ ہیں اپنی بچیوں سے جب آپ بڑی ہوں گی اور یہ کام سنبھالیں گی بڑی نسل میں سے کئی ایسی ہیں جو پڑھی لکھی ہیں۔تعلیم نہیں ہے ان کی اس