خطابات مریم (جلد دوم) — Page 486
خطابات مریم 486 خطابات سیکھنا ہے۔ٹھیک ہے دنیاوی تعلیم آپ کی بڑی اعلی طریق پر ہو رہی ہوگی بہترین سکولوں میں آپ پڑھ رہی ہوں گی لیکن دنیاوی تعلیم سے نہ آپ کو دین سے محبت ہو سکتی ہے نہ آپ دین کی ذمہ داریاں اُٹھا سکتی ہیں۔جب تک آپ خود دین کو نہ سیکھیں ، اپنی عقل عمر اور سمجھ کے مطابق اس کے لئے جہاں ایک طرف آپ کی سیکر ٹریان ناصرات ہیں اور عہدے دار ہیں ان کا فرض ہے کہ آپ کو سکھائیں اور ماؤں کی سب سے زیادہ بڑی ذمہ داری ہے کیونکہ اجلاس تو سیکرٹری کے ساتھ آٹھ یا پندرہ دن کے بعد ہو جائے گا جو بھی مقرر ہے وہ کبھی کبھی یا تو کلاس لگا لے گی روزانہ تو آپ کی ذمہ دار مائیں ہی ہوتی ہیں اور مائیں یہاں بہت کم ہیں۔ان سے تو انشاء اللہ تعالی کل خطاب کرنے کا موقع ملے گا لیکن آپ کا بھی فرض ہے کہ جو بھی آپ کو سکھایا جائے جو دینی بات آپ کو سکھائی جائے آپ اس کو اچھی طرح یاد رکھیں اور بھولیں نہ حالانکہ آپ ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جس ملک میں آپ رہتی ہیں ان کی نقل نہیں کرنی ہے۔ان کو دین سکھانے آئے ہیں یہاں آپ نے اس تعلیم پر عمل کرنا ہے جو قرآن میں بیان ہوئی ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تعلیم لائے تھے جس کو پھر سے پھیلانے کیلئے حضرت مسیح موعود دنیا میں آئے اور جس کو آپ کے خلفاء کرتے رہے ہیں اور کر رہے ہیں جس مقصد کیلئے مبلغ بھیجے جاتے ہیں اور لجنہ قائم ہوئی ہے انصار اللہ اور اطفال الاحمدیہ قائم ہوئی ہیں ان سب کا ایک ہی مقصد ہے کہ ہم اپنے بچوں اور بچیوں کو سچے مسلمان بنا ئیں۔خدا سے محبت کرنے والے بنائیں۔مذہب کی غیرت رکھنے والے اور محبت رکھنے والے ہوں لڑکیوں پر تو لڑکوں سے زیادہ ذمہ داریاں پڑتی ہیں کیونکہ آگے قوم کی ذمہ داریاں عورتوں کے سر زیادہ ہوتی ہیں۔مرد تو باہر رہتے ہیں۔سارا دن کے تھکے ہارے آئے جس کو توفیق ملی کام کیا۔لیکن وہ مائیں آج کی بچیاں تو جو کل کی مائیں بنیں گی اگر وہ آج دین میں اچھی طرح ہوں گی اگر اچھی طرح انہیں دین نہیں آئے گا وہ کیسے باقی لوگوں کو تعلیم دے سکتی ہیں تو یہ نہ سمجھو کہ ابھی ہم بہت چھوٹی ہیں۔جس طرح پہلی کلاس پاس کئے بغیر آپ دوسری کلاس میں نہیں جاسکتیں اسی طرح میری پیاری بچیوا بھی سے آپ نماز قرآن حدیث جو کچھ بھی اپنی اپنی عمر کے مطابق ہے اپنے دین کی واقفیت۔کیا اختلاف ہے ہمارا دوسرے مسلمانوں کے ساتھ اور اسلام کی خوبی کے دلائل اپنی اپنی عمر کے مطابق سیکھیں اور