خطابات مریم (جلد دوم) — Page 476
خطابات مریم 476 خطابات دورہ بہاولنگر محترمہ صدر صاحبہ لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے فرمایا کہ جس طرح دنیا کے کاموں میں ہر ممکن کوشش کرتی ہیں کہ ان میں کوئی نقص باقی نہ رہ جائے۔اسی طرح دین کے بارے میں کیوں نہیں سوچتیں۔مجھے بے حد افسوس ہوا کہ اکثر مجالس کی طرف سے ایک نمائندہ بھی شامل نہ ہوسکا۔وعدہ تو دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا ہے اور عمل اس قدر اس کے برعکس اور جو اس وقت موجود ہیں وہ تقریباً ساری عہدیدار ہیں آپ کو شکایت ہے کہ اجلاسوں میں حاضری بہت کم ہوتی ہے اس کی وجہ معلوم کرنا بھی تو آپ کا کام ہے۔پروگرام دلچسپ بنائیں ان کو شوق دلائیں کہ وہ اس میں شامل ہوں۔اگر ہمارے دل شمع ایمان سے منور ہو چکے ہیں تو ہم کام سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔کیا یہ ممکن ہے کہ احمدی مرد تو دین کی خاطر ہر تکلیف اُٹھائے اور احمدی عورت ہر ذمہ داری سے ہی آزاد ہو جائے کیا یہ دین ہے کہ دنیا کے تو سارے کام کرنے ہیں لیکن دین کے کام کیلئے کوئی معمولی سی کوشش بھی نہیں کرنی ؟ پھر فرمایا کہ بیعت کے مقصد کو سامنے رکھیں۔ثابت قدم اور متحد ہو کر چلیں تو بڑے سے بڑا دشمن بھی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔اللہ اور اس کے رسول کی محبت کے آگے اپنی ساری محبتوں کو قربان کر دیں۔سمعنا واطعنا کا سبق سیکھیں۔خدا کی خاطر جو بھی عہد یدار مقرر ہو اس کے ساتھ تعاون کریں اور انکساری پیدا کریں۔سَیّدُ الْقَوْمِ خَادِمُهُمُ اگر آپ سب کا ایک مقصد ہو تو لڑائی جھگڑے کا تو ماحول پیدا ہو ہی نہیں سکتا۔آخر میں آپ کی توجہ اس طرف مبذول کرواؤں گی کہ خدا تعالیٰ کی طرف جو ہدایت نامہ آیا ہے وہ قرآن مجید ہے جب تک اس کا ترجمہ نہیں سیکھیں گی ہدایت کے راستہ پر کیسے چل سکیں گی۔ہم نے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی منظوری اور ارشاد سے قرآن مجید کا ترجمہ تلاوت کی ایک کیسٹ تیار کی ہے۔دعا کریں کہ ہم قرآن مجید کا پورا ترجمہ کیسٹ کے ذریعے آپ تک پہنچا سکیں۔انشاء اللہ۔پیارے آقا کی وطن واپسی کے لئے ہر دم دعا گور ہیں تا وہ بہاروں کے دن پھر واپس آ سکیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو بھی اور مجھے بھی دین کی خدمت کی توفیق عطا فرما دے۔آمین (ماہنامہ مصباح مارچ 1987ء)