خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 477 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 477

خطابات مریم 477 خطابات دوره ضلع چکوال 9 مارچ 1987ء کو حضرت سیدہ صدر صاحبہ لجنہ مرکز یہ ضلع چکوال کے دورہ کے لئے دوالمیال تشریف لے گئیں آپ نے حاضر مجالس کی عہدیداران کو ان کی کارکردگی سے آگاہ کرتے ہوئے ضروری نصائح فرمائیں۔تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد آپ نے فرمایا کہ موجودہ حالات میں جلسے اور اجتماعات بند ہونے کی وجہ سے ملاقات کے ذرائع بند ہو گئے ہیں۔دور کی مجالس کا مرکز میں آنا بھی کم ہوتا ہے اس لئے فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہر گاؤں اور قصبہ میں پہنچنا تو مشکل ہے لہذا مختلف مقامات پر ضلعی اجلاس بلوائے جائیں اور دورہ کر کے کام کو تیز تر کرنے کی کوشش کی جائے۔یہ دورہ بھی اس سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔آپ نے فرمایا کہ آپ بہت خوش قسمت ہیں اس مہدی کو مانا ہے جس کی حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری زمانہ میں آنے کی بشارت دی تھی۔آپ کو یہ نعمت ورثہ میں ملی ہے۔آپ کے آباؤ اجداد نے بہت سی قربانیاں دی تھیں۔اب جس زمانہ سے ہم گزر رہے ہیں وہ بھی بہت سے قربانیوں کا متقاضی ہے آپ اپنے نفسوں کا جائزہ لیں کہ کیا آپ کے اعمال بھی ویسے ہی ہیں جیسا کہ آپ کے بزرگوں کے تھے اگر ایسا نہیں تو سوچیں کہ آپ نے کیا کرنا ہے؟ نیز فرمایا کہ قرآن کریم میں جس جس جگہ ایمان کا ذکر ہے وہاں ساتھ ہی اعمال صالحہ کا ذکر موجود ہے۔جب تک ایمان کے پودے کو عمل کے پانی سے نہ سینچا جائے اس وقت تک یہ پودا نشو و نما نہیں پاتا۔پھر آپ نے خواتین کو خدا کے لئے تقویٰ کی باریک راہوں کو اختیار کرنے کی طرف توجہ دلائی اور اس سلسلہ میں حضرت اقدس بانی سلسلہ احمدیہ کے تقویٰ سے متعلق ارشادات پیش فرمائے۔نیز آپ نے قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کرنے کی طرف توجہ دلائی۔چھوٹی چھوٹی غفلتیں اور سستیاں جو انسان کو ترقی کی راہوں