خطابات مریم (جلد دوم) — Page 458
خطابات مریم 458 خطابات غرض و غایت ہی یہ تھی کہ آپ قرآن کریم کی تعلیم دیں اور اس اخلاقی تعلیم کو دنیا میں دوبارہ رائج کریں جو بڑی اعلیٰ وارفع ہے تا کہ اس چمن میں پھر سے پھول کھلیں اور پھر سے بہار آ جائے۔ہمارے سامنے تین ستون ہیں۔قرآن، سنت اور حدیث ہمیں انہی پر عمل کرنا ہوگا۔خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں کامل نمونہ بنا کر بھیجا تھا۔آپ کے صحابہؓ نے آپ کی مکمل اتباع کی اور ایسا نمونہ دکھایا کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارہ میں فرمایا میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں۔جو ان کے راستہ پر چلیں گے فلاح پائیں گے۔حضرت سیدہ صدر صاحبہ نے فرمایا کہ وہ مالی قربانی اور تقلید کا معیاراب موجود نہیں۔جوں جوں جماعتیں بڑھتی ہیں ان میں کمزوریاں بھی پیدا ہو جاتی ہیں۔کمزوریوں کو دور کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اپنے نفسوں کی اصلاح کریں اور آئندہ نسل کی حفاظت کریں اور انہیں آئندہ ذمہ داریوں کے لئے پوری طرح تیار کریں۔بچوں کی صحیح تربیت کے لئے اپنے آپ کو بطور نمونہ پیش کریں کیونکہ جو کچھ مائیں کرتی ہیں وہی کچھ اولا د کرتی ہے اُن کے اندر جماعت کے لئے غیرت اور اطاعت کا جذبہ پیدا کریں۔اگر آپ نے اپنے بچوں کی اصلاح کرلی تو مستقبل کے لئے اچھی نسل تیار ہو گی۔ہمارے پیارے امام اس وقت ہم سے بہت دُور ہیں آپ ہر وقت دعا کرتی رہیں کہ خدا تعالیٰ کامیابیوں اور کامرانیوں سے اُنہیں جلد بخیریت واپس لائے۔اس کے ساتھ ہی اپنے نفسوں کا جائزہ بھی لیتی رہیں کہ اُن میں کوئی کمزوری تو پیدا نہیں ہو گئی۔ہماری ہر مجلس خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی بنیان مرصوص کی طرح ہونی چاہئے۔قرآن کریم کی تعلیم کا محور اطِیعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُوْلَ وَأُولِي الأمْرِ مِنْكُمُ (النساء: 60) ہے۔پس نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون کریں۔عہدیداران ہمیشہ اس بات کو مدنظر رکھیں کہ قوم کا سردار قوم کا خادم ہوتا ہے۔خود خادم بن کر خدمت کریں اور پھر دوسروں سے اطاعت کی امید رکھیں۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اصلاح معاشرہ کے متعلق بہت سے خطبات ارشاد فرمائے ہیں اُن پر عمل کریں اور ساری دنیا کے سامنے اپنا ایسا نمونہ پیش کریں کہ دشمن بھی یہ کہنے پر مجبور ہو جائیں کہ دنیا میں قرآن اور اسلام کے احکامات پر عمل کرنے والی جماعت صرف احمدی جماعت