خطابات مریم (جلد دوم) — Page 433
خطابات مریم 433 خطابات جائیں۔الحمد للہ اس سال لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کے دفتر کی از سر نو بنیا درکھی گئی سابقہ دفتر کی عمارت گرائی جا رہی ہے جس کی بنیاد 31 مئی 1950ء کو حضرت فضل عمر نے رکھی تھی اس کی حالت بہت خراب ہو چکی تھی چنانچہ نئے نقشہ کے مطابق 3 رمئی 1985ء کو سنگ بنیاد رکھا گیا اور تعمیر شروع ہوگئی ہے بجٹ میں سے پانچ لاکھ روپے لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے ادا کئے ہیں باقی رقم حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے از راہ شفقت بطور قرض جو بلی فنڈ سے عطا فرمائی۔ابھی اس عمارت کے چندہ کی تحریک کی اجازت حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ملی کیونکہ یورپین مراکز کے چندہ کا ابھی جماعت پر بوجھ ہے جب بھی حضور تحریک فرما ئیں گے میں امید کرتی ہوں کہ ہماری احمدی بہنیں اپنی پرانی روایات کو پھر سے زندہ کر دیں گی۔صحت جسمانی کی جو سکیم حضور کے پیش نظر ہے اس کی پرا جیکٹ کی تعمیر کے لئے سوالاکھ روپیہ لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کے ذمہ ڈالا گیا تھا جس میں سے لجنہ مرکزیہ نے چار قسطیں یعنی ایک لاکھ ادا کر دیئے ہیں۔صرف ایک قسط باقی ہے جو آئندہ سال انشاء اللہ ادا کی جائے گی۔گھٹیالیاں سکول کی مرمت کے لئے پچیس ہزار روپے دیئے گئے ہیں دس ہزار بیوت الحمد سکیم میں مزید دیئے گئے۔گیارہ ہزار میں اس سال لجنہ نے ٹیپ ریکارڈنگ ڈیک خریدا ہے تا اس پر تعلیمی اور تربیتی کیسٹ تیار کئے جائیں۔گزشتہ سال حضور نے یورپین مراکز کے لئے چندہ کی تحریک فرمائی جو ساری دنیا کے احمدیوں کیلئے تھی۔احمدی خواتین نے اپنے زیور اور رقوم کھلے دل کے ساتھ اپنے امام کے قدموں میں ڈال کر ثابت کر دیا کہ احمدی مستورات ایک زندہ قوم کی عورتیں اور دین کی سر بلندی کی خاطر مال قربان کرنے کیلئے ہر وقت تیار رہتی ہیں۔بڑی پیاری مثالیں سامنے آئیں جن میں سے بعض کا تذکرہ حضور بھی اپنے خطبات میں بیان فرما چکے ہیں۔ان واقعات کو محفوظ رکھنا ہمارا فرض ہے تا کہ آئندہ نسل کے لئے مشعل راہ ہو۔اس سلسلہ میں تمام لجنات ایسے واقعات ناموں اور پتوں کے ساتھ جمع کریں اور مجھے دستی یا رجسٹر ڈ بھجوائیں۔اس کے علاوہ موجودہ حالات میں بھی جو قربانی ہماری جماعت کی خواتین نے دی ہے ان میں چیدہ چیدہ مثالیں لکھیں۔