خطابات مریم (جلد دوم) — Page 429
خطابات مریم 429 خطابات ربوہ کی کل تعداد جنہوں نے داخلہ کا ٹکٹ لیا ہے کی تعداد 6307 ہے اس میں 254 نمائندگان میں ربوہ کی 2400 ناصرات نے شرکت کی۔چونکہ 1984ء میں اجتماع نہیں ہو سکا اس لئے اپنی تقریر میں میں دونوں سالوں کا جائزہ لوں گی۔1984ء میں حضرت امام جماعت احمد یہ لندن تشریف لے گئے آپ کی جدائی نے جو زخم دلوں میں ڈالے ہیں ان کی تکلیف سے ہر بہن آگاہ ہے ہمارا سب سے بڑا فرض حضور ایدہ اللہ کی صحت کے لئے اور لمبی عمر پانے کے لئے اور احمدیت کی ترقی کیلئے دعا کرنا اور کرتے چلے جانا ہے۔ایسی دعا ئیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے والی ہوں ایسی دعا ئیں جو عرش کو ہلا دینے والی ہوں۔ان دو سالوں میں بہت سی عظیم ہستیاں ہم سے بچھڑ کر اپنے رب کے حضور حاضر ہو گئیں۔وہ ہستیاں جو جماعت احمدیہ کے بہت پیارے وجود تھے ان میں مرد بھی تھے اور عورتیں بھی لیکن یہ چونکہ عورتوں کا اجتماع ہے اور لجنہ کے کاموں کا تذکرہ ہو رہا ہے اس لئے صرف خواتین کا ہی ذکر کروں گی۔حضرت بانی سلسلہ عالیہ کی بہو یعنی آپ کے سب سے چھوٹے صاحبزادے حضرت مرزا شریف احمد صاحب رحمہ اللہ کی بیگم صاحبہ 24 / اگست 1984ء کو ایک لمبی بیماری کے بعد وفات پا گئیں۔آپ حضرت نواب محمد علی خان صاحب نوراللہ مرقدہ کی سب سے بڑی بیٹی تھیں اور خدائی بشا رات کے ماتحت جن خواتین مبارکہ کا خاندان سید نا حضرت اقدس میں داخل ہونا مقدر تھا اس میں آپ کو ایک ممتاز مقام حاصل تھا۔سید نا حضرت بانی سلسلہ نے اپنے صاحبزادے کے لئے خود آپ کا رشتہ تجویز فرمایا اور حضور کی زندگی میں ہی حضرت مولانا نورالدین صاحب نے آپ کا نکاح پڑھا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو لمبی زندگی عطا فرمائی۔نیک فرمانبردار، خادم دین اولاد سے نوازا اور تری نسلاً بعیدا کی پیشگوئی کو اپنی آنکھوں سے پورا ہوتے دیکھا۔آپ کی وفات سے احمدی خواتین ایک بزرگ اور مقدس خاتون کی صحبت سے محروم ہو گئیں۔15 جون 1984ء کو سیدہ نصیرہ بیگم صاحبہ جو میر محمد الحق صاحب کی دختر اور صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب مرحوم کی بیگم تھیں وفات پا گئیں بہت کم ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جن کے ماں اور باپ دونوں کو خدمت دین کی توفیق ملی ہو اور ان کی نسل میں بھی خدمت دین کا تسلسل