خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 20 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 20

خطابات مریم 20 20 تحریرات سے احمدی بھی ہجرت کر کے کراچی پہنچے تھے اور وہاں احمدی خواتین کی تعداد پہلے سے نمایاں زیادہ ہو چکی تھی۔چنانچہ 17 ستمبر 1947ء کو ایک جلسہ مکرمہ استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ کی زیر صدارت محترمہ بیگم صاحبہ چوہدری بشیر احمد صاحب کی کوٹھی پر ہوا اس میں نئے انتخابات ہوئے۔محترمه استانی میمونہ صاحبہ کو صدر منتخب کیا گیا اور محترمہ بیگم صاحبہ چوہدری بشیر احمد صاحب نائب صدر مقرر ہوئیں۔محترمہ استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ چونکہ عارضی طور پر کراچی میں مقیم تھیں اس لئے استانی جی کی نگرانی میں بیگم صاحبہ چوہدری بشیر احمد صاحب نے کام سیکھا اور استانی جی صاحبہ نے نہایت شفقت سے لجنہ کراچی کی تربیت اور راہ نمائی فرمائی۔( تاریخ لجنہ جلد دوم صفحہ 45) 20 فروری 1948ء کو لجنہ کراچی نے زیر صدارت محترمه استانی میمونه صوفیه صاحبه جلسه مصلح موعود منعقد کیا۔چند ماہ بعد نصرت گرلز سکول کا لا ہور رتن باغ میں چھوٹے پیمانہ پر اجراء کر دیا گیا اور پھر ربوہ کی زمین خریدنے پر 25 اپریل 1949 ء کور بوہ میں کچی عمارت میں سکول جاری ہو گیا تو استانی جی صاحبہ کراچی سے تعلیم دینے کیلئے پھر حاضر ہوگئیں۔چنانچہ 1949ء کی جو مجلس عاملہ مرکز یہ بنائی گئی اس میں پھر استانی میمونہ صاحبہ سیکرٹری مال مقرر کی گئیں اور 1961ء تک اسی سے عہدہ پر رہیں۔اس کے بعد آپ کو محاسبہ کا عہدہ دیا گیا جس میں آپ نے 1961 ء۔1963 ء تک کام کیا۔20 فروری 1949ء کو لاہور میں جلسہ مصلح موعود بہت بڑے پیمانہ پر منعقد کیا گیا اس وقت تک استانی جی صاحبہ لا ہور آ چکی تھیں اور اس جلسہ میں آپ نے بھی تلاوت قرآن کریم کی۔ربوہ آباد ہونے پر وہ خواتین جن کے خاوند قادیان میں تھے ان کے لئے دارالخواتین کا انتظام کیا گیا اس کی نگرانی جن خواتین نے کی ان میں بھی استانی جی کا نام شامل ہے۔31 مئی 1950ء کو لجنہ اماءاللہ کے دفتر کی بنیا د رکھی گئی لجنہ اماءاللہ کی کارکنات نے بھی بنیاد میں دعا کے ساتھ اینٹیں رکھیں مکرمہ استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ نے بھی صحابیہ اور کارکن لجنہ ہونے کی حیثیت میں ایک اینٹ رکھی۔25 مئی 1950 ء لجنہ مرکزیہ کی طرف سے لجنہ اماءاللہ فیصل آباد کا دورہ کیا گیا۔عاجزہ