خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 21 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 21

خطابات مریم 21 تحریرات کے ساتھ استانی جی بھی تشریف لے گئیں۔بیت الذکر احمد یہ فیصل آباد میں لجنہ کا جلسہ ہوا۔آپ نے بھی تقریر کی۔1951ء میں لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے مختلف شہروں میں اپنے وفود بھجوائے ہر وفد میں استانی میمونہ صاحبہ شامل تھیں۔آپ نے وہاں جا کر عورتوں سے خطاب بھی کیا اور تبادلہ خیالات بھی۔12 / جولائی 1954ء کو مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کی طرف سے کپاس کی تین بوریاں لجنہ مرکزیہ کے سپرد کی گئیں تا کہ ایک اور لوائے احمدیت کی تیاری کیلئے اس میں سے بنولے الگ کریں اور روئی الگ۔یہ کپاس ڈیڑھ من تھی چنانچہ محترمہ بھا بھی زینب صاحبہ مرحومہ کی نگرانی میں ہیں بزرگ خواتین نے انہیں بیلا۔جن میں سے ایک استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ بھی تھیں۔( تاریخ لجنہ جلد دوم صفحہ 373) 23 رمئی 1956ء کو لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے فیصلہ کیا کہ چونکہ محترمہ میمونہ صوفیہ صاحبہ نصرت گرلز سکول سے ریٹائرڈ ہوگئی ہیں اس لئے انہیں لجنہ مرکزیہ کی انسپکٹرس کے عہدہ پر با قاعدہ تنخواہ دار کارکن کی حیثیت سے مقرر کیا جائے چنانچہ اس عہدہ پر ان کا تقرر عمل میں لایا گیا اور محترمہ استانی صاحبہ موصوفہ انسپکٹرس کی حیثیت سے مختلف مقامات کی لجنات کے معائنہ اور دورہ کیلئے تشریف لے جانے لگیں۔اپنے دورہ میں وہ نئی لجنات بھی قائم کرتی تھیں۔30 ستمبر کو آپ نے ضلع گجرات کا دورہ کیا بارہ مقامات پر گئیں اور سات جگہ لجنہ کی تنظیم قائم کی۔22 نومبر 1956 ء کو کراچی لجنہ کا دورہ کرنے اور ان کے پہلے سالانہ اجتماع میں شمولیت کی غرض سے بطور نمائندہ تشریف لے گئیں اس کے علاوہ سرگودھا کے بعض دیہات کا بھی آپ نے دورہ کیا۔( تاریخ لجنہ جلد دوم صفحہ 424) 12 دسمبر 1956ء کو لجنہ اماء اللہ کراچی کا پہلا جلسہ سالانہ منعقد ہوا۔اُستانی میمونہ صوفیہ صاحبہ نے بطور مرکزی نمائندہ اس جلسہ میں شرکت کی۔19 / اکتوبر 1956 ء کو حضرت سیدہ ام ناصر صاحبہ نے لجنہ اماءاللہ کے زیر اہتمام نصرت جنرل سٹور کا افتتاح فرمایا۔یہ سٹور کامیابی کے ساتھ مکرمہ استانی میمونہ صاحبہ چلاتی رہیں اور ہر سال معقول منافع حصہ داران میں تقسیم کیا جاتا رہا۔ان کی صحت کی خرابی کے باعث یہ سٹور