خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 421 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 421

خطابات مریم 421 ولِبَاسُ التَّقْوى ذلك خير (الاعراف: 27) پھر آپ فرماتے ہیں :۔خطابات (الفضل 22 نومبر 1983ء) تقویٰ ایسے خوف کو کہتے ہیں جو محبت کرنے والے کے پیار کو کھو دینے کا ڈر ہوتا ہے ہمیشہ یہ خطرہ دامن گیر ہو کہ میں کوئی ایسا فعل نہ کروں میری سوچ کوئی ایسی راہ اختیار نہ کرے کہ جس سے میرا پیارا اور محبوب خدا مجھ سے ناراض ہو جائے۔اس کا نام تقویٰ ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر تم یہ طرز فکر اختیار کرو گے تو دنیا کے پردہ پر جہاں بھی جاؤ گے یہ طرز فکر تمہاری زندگی کی حفاظت کرے گی۔تمہارا لباس بھی بن جائے گی تمہاری خوراک بھی ہو جائے گی اور پھر تم کسی غیر اللہ کے شر سے خوف کھانے کے فکر میں مبتلا نہیں ہو سکتے کبھی غیر کے شر کے خوف میں مبتلا نہیں ہو سکتے کیونکہ خدا کا خوف ہر دوسرے خوف پر غالب آ جاتا ہے“۔(الفضل 22 نومبر 1983ء) ہماری کوئی احمدی عورت ملک سے احمدی ماں کی سب سے بڑی ذمہ داری باہر جا کر یا اپنے ملک میں اگر پردہ چھوڑتی ہے تو اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ لاشعوری طور پر خوفزدہ ہوتی ہے کہ ہمارے ملنے والیاں اُسے اچھا نہیں سمجھیں گی لیکن اس کو اگر اپنے مذہب کی غیرت ہوتی تو اس میں احساس برتری ہوتا کہ قرآن کی تعلیم سب سے اعلیٰ ہے جو ہم کر رہے ہیں وہ صحیح ہے چونکہ اس کو گھر سے اچھی تربیت نہیں ملی ہوتی۔اس لئے وہ گھبراتی ہے پس سب سے بڑی ذمہ داری ہر ماں کی یہ ہے کہ خود بھی علم دین سے واقف ہو اور اپنی اولا دکو بھی دین سے واقف کرائے۔تمام وہ اعلیٰ اخلاق جن کی تعلیم قرآن مجید میں ہے اور جن کو عملاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کر کے دکھایا ان کو اپنائے اور دنیا کے سامنے پیش کئے بغیر ہم اس تہذیب کو قائم نہیں کر سکے جو اسلامی تہذیب ہے جس میں ایک طرف حقوق اللہ کی ادائیگی ہے دوسری طرف حقوق العباد کی ادائیگی ہے۔ایسے ہی معاشرہ کے قیام کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لائے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو بشارت دی کہ ایک نئی زمین اور ایک نیا آسمان آپ کے ذریعہ قائم کیا جائے گا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کے آنے