خطابات مریم (جلد دوم) — Page 418
خطابات مریم 418 خطابات نے اس سال جلسہ سالانہ سے قبل اس ذمہ داری کا احساس جماعت کو دلایا ہے کہ احمد یہ جماعت میں یہ خلق بہت نمایاں طور پر پایا جانا چاہئے۔ان بُرائیوں سے بچنے کا علاج صرف اور ان بُرائیوں سے کیسے بچا جا سکتا ہے صرف اسلام کی تعلیم پر عمل کرتا ہے جس کے احیاء کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس زمانہ میں تشریف لائے اور جس کا عملی نمونہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے سامنے دکھایا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے آپ کو اس زمانہ کا حصن حصین قرار دیا ہے۔عافیت کا حصار قرار دیا ہے کہ بُرائیوں سے بچنا ہے تو میری جماعت میں شامل ہو۔صرف ظاہری طور پر بیعت کرنا مراد نہیں بلکہ عمل بھی ہو۔اس زمانہ کی ہلاکت سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے احمدی جماعت کو کشتی نوح قرار دیا ہے۔مگر افسوس ہے کہ اگر اس کشتی میں بیٹھ کر بھی ہلاکت سے ہم محفوظ نہ رہیں۔ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے آنے کی غرض مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان فرماتے انبیاء علیہم السلام کی دنیا میں آنے کی سب سے بڑی غرض اور ان کی تعلیم اور تبلیغ کا عظیم الشان مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ خدا تعالیٰ کو شناخت کریں اور اسی زندگی سے جو انہیں جہنم اور ہلاکت کی طرف لے جاتی ہے اور جس کو گناہ آلود زندگی کہتے ہیں نجات پائیں۔حقیقت میں یہی بڑا بھاری مقصد اُن کے آگے ہوتا ہے۔پس اس وقت بھی جو خدا تعالیٰ نے ایک سلسلہ قائم کیا ہے اور اس نے مجھے مبعوث فرمایا ہے تو میرے آنے کی غرض بھی وہی مشترک غرض ہے جو سب نبیوں کی تھی یعنی میں بتانا چاہتا ہوں کہ خدا کیا ہے بلکہ دکھانا چاہتا ہوں اور گناہ سے بچنے کی راہ کی طرف راہبری کرتا ہوں“۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 8، 9) موجودہ زمانہ کی انتہائی آزادی اور بے راہ روی کی زندگی سے بڑھ کر کون سی گناہ آلود زندگی ہے جس سے خود کو محفوظ رکھنا اور اپنی اولاد کو بچانا ہمارا فرض ہے اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں