خطابات مریم (جلد دوم) — Page 419
خطابات مریم 419 خطابات فرماتا ہے قُوا أَنْفُسَكُمْ وَ أَهْلِيكُمْ نَارًا ( تحریم : 7) اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔وہ آگ جو ہمارے ارد گرد آزادی کی صورت میں ہے وہ آزادی جو دجالیت کی روح ہے اپنی اولا دکو اس سے بچانا ہمارا فرض ہے۔اسلام کی بنیادی تعلیم۔توحید اسلام کی بنیادی تعلیم تو حید ہے کہ اللہ تعالی ایک ہے ذات میں بھی اور صفات میں بھی۔جب اس جیسا دوسرا کوئی ہے ہی نہیں تو پھر ہر بات میں اس کی رضا کو مقدم رکھنے میں ہی نجات ہے اور : اس کی تعلیم پر چلنے میں ہی ترقیات ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :۔یہ خدا ہے جو ہمارے سلسلہ کی شرط ہے اس پر ایمان لاؤ اور اپنے نفس پر اور اپنے آراموں پر اور اپنے کل تعلقات پر اُس کو مقدم رکھو اور عملی طور پر بہادری کے ساتھ اس کی راہ میں صدق و وفا دکھلاؤ دنیا اپنے اسباب اور اپنے عزیزوں پر اس کو ا مقدم نہیں رکھتی مگر تم اُس کو مقدم رکھو تا تم آسمان پر اس کی جماعت لکھے جاؤ۔رحمت کے نشان دکھلانا قدیم سے خدا کی عادت ہے۔مگر تم اُس حالت میں اس عادت سے حصہ لے سکتے ہو کہ تم میں اور اس میں کچھ جدائی نہ رہے اور تمہاری مرضی اس کی مرضی اور تمہاری خواہشیں اس کی خواہشیں ہو جائیں اور تمہارا سر ہر ایک وقت اور ہر ایک حالت مرادیابی اور نا مرادی میں اُس کے آستانہ پر پڑا ر ہے۔(روحانی خزائن جلد 19 کشتی نوح صفحه 11) نقل انسان دوسرے کی اس وقت کرتا ہے جب اس سے مرعوب ہوتا ہے۔اپنے سے بالا کی نقل کرتا ہے فیشن میں جب کسی کی تقلید کوئی عورت کرتی ہے تو جس کی وہ نقل کرتی ہے اس کے متعلق اسے یقین ہوتا ہے کہ یہ ہم سے بالا ہے۔اس پر دنیا کی نظر ہے شائد ہم اس کی نقل کریں تو ہمیں بھی دنیا کوئی بالا ہستی سمجھے۔غرض مقصد دنیا پرستی اور دنیا حاصل کرنا ہوتا ہے لیکن ایک احمدی مسلمان کے لئے سب سے پہلے اس کا رب ہے جس کا اس نے حکم ماننا ہے۔اس کی رضا کو مقدم رکھنا ہے۔پھر وہ بے نظیر ہستی ہے صلی اللہ علیہ وسلم جس کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کیلئے نمونہ بنا کر بھیجا اور فرمایاد لقد كان لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أسْوَةً حَسَنَةً (احزاب: 22) ایک مسلمان