خطابات مریم (جلد دوم) — Page 417
خطابات مریم 417 خطابات کے ذریعہ اس کا گھر جنت بن جاتا ہے۔ایک اور بُرائی جو مغربی تہذیب کے زیر اثر نمایاں نظر آتی ہے نئی نسل کی آزاد خیالی سوائے ان گھرانوں کے جہاں ماں باپ اولاد کی تربیت کا بہت خیال رکھتے ہیں وہ نئی نسل کی آزاد خیالی اور بڑوں کا جو ادب لحاظ ان کو کرنا چاہئے اس کی کمی ہے اور اس کو وہ Generation Gap کا نام دیتے ہیں حالانکہ دونسلوں میں کوئی GAP نہیں۔ایک نسل کے بعد دوسری نسل آتی ہے کوئی اپنی اگلی نسل کو اپنے سے بہتر بنا جاتی ہے کوئی تربیت کی کمی کی وجہ سے پہلے سی بھی کم تر۔امریکہ یورپ میں آپ دیکھیں نو جوان لڑکے لڑکیاں گھروں سے چلے جاتے ہیں۔پڑھائی کی طرف توجہ نہیں ماں باپ کی پرواہ نہیں کہیں کام مل گیا کر لیا نہ ملا تو لوٹ مار کر کے اپنا پیٹ بھر لیا۔نشوں کی عادتیں پڑ رہی ہیں کوئی کیریکٹر نہیں رہا۔اس لئے کہ نہ ماں باپ کو اپنے کاموں سے فرصت ہے کہ وہ بچوں کی تربیت کریں نہ بچوں کی یہ تربیت کی گئی ہے کہ ماں باپ کا ادب کریں۔ماں باپ کے پیار سے محروم یہ بچے نفسیاتی بیمار بن رہے ہیں۔ہمارے ملک میں بھی طلباء کا طبقہ اپنے آپ کو قانون سے بالا تر سمجھتا ہے اور اخباروں میں آپ پڑھتے ہیں کہیں موٹر میں جلا دیں، ہڑتالیں کر دیں وغیرہ وغیرہ۔وہ بچے بھی کسی ماں باپ کے ہوتے ہیں کیوں ماں باپ ان کی تربیت نہیں کرتے کہ اپنے ملک کو نقصان کیوں پہنچاتے ہیں۔طالبات میں اور بعض جگہ افسوس ہوتا ہے کہ احمدی طالبات میں بھی خودسری نظر آتی ہے اگر سمجھایا جائے کہ کم از کم یہ چھچھوری حرکتیں کرنا احمدیت کے وقار کے خلاف ہیں تو بُرا مان جاتی ہیں۔مہمان نوازی کی کمی ایک اور کمزوری جو موجودہ تہذیب کی پیداوار ہے مہمان نوازی کی کمی ہے۔مہمان نوازی ایک اعلیٰ اسلامی خلق ہے جس کا اعلیٰ ترین نمونہ ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں ملتا ہے۔پھر اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے عمل سے مہمان نوازی پر بے حد زور دیا اور جماعت میں لنگر خانہ جاری کر کے یہ ثابت کر دیا کہ احمد یہ جماعت مہمان نواز ہے مگر وہ لوگ جو سادگی چھوڑ کر تکلفات میں پڑ گئے ہیں ان کے جذ بہ مہمان نوازی میں کمی واقع ہو گئی ہے۔حضرت خلیفۃ امسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ