خطابات مریم (جلد دوم) — Page 413
خطابات مریم 413 خطابات ترقی کرے اور اس پر اعتراض کرتے رہتے ہیں ) ہاتھ مضبوط کرنے کا موجب بنتی ہیں۔پردہ چھوڑ کر آزادانہ میل ملاپ شروع ہوتا ہے اور گھر کا نقشہ ہی بدل جاتا ہے۔ایک مسلمان کا گھر جو اس کی عزت اس کی بیوی اور بیٹیوں کی عزت کے تحفظ کا ضامن ہوتا ہے اس کی فضا ہی بدل جاتی ہے آزادانہ اس کے گھر میں مرد آئیں گے اور اس گھر کی خواتین اور بچیاں بھی دوسروں کے گھروں میں آزادانہ جائیں گی جس کا نتیجہ وہی نکلے گا جو آج یورپ اور امریکہ کے آزاد گھروں کا نظر آتا ہے کہ کسی کے گھر کی بیٹی بھاگ گئی جا کر شادی کر لی یا کسی کے بغیر شادی ہی بچہ ہو گیا اور ساری عمر کے لئے ماں باپ دکھ میں مبتلا ہو گئے وغیرہ وغیرہ گویا موجودہ تہذیب سب سے بڑا تصور اس آزادی کا دیتی ہے جس کی نہ مذہب اجازت دیتا ہے نہ اسلامی شعائر ، حقیقی آزادی مسلمان عورت کو اسلام نے ہی دی ہے لیکن وہ آزادی جس کے علمبر دار یورپ و امریکہ ہیں اس آزادی کی اجازت اسلام نہیں دیتا۔اسلام نے عورتوں کے حقوق اسلام کی طرف سے عائد کردہ حد بندیاں کے ساتھ اس پر حد بندیاں بھی لگائی ہیں اور جو ان حد بندیوں کو توڑے گی وہ بُرا نتیجہ دیکھے گی۔حد بندیاں یہی ہیں کہ جب لڑکی جوان ہو وہ پردہ کرے عورت مرد کا آزادانہ ایک دوسرے سے ملنا ، گھروں میں آنے جانے کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔قرآن تو کہتا ہے جب بچے جوان ہوں تو ماں باپ کے کمرہ میں بھی صبح اور رات کو بغیر اجازت نہ جائیں۔گھروں میں داخل ہو تو السلام علیکم کہو۔اگر گھر والا کہے کہ واپس چلے جاؤ تو واپس چلے جاؤ۔کوئی دعوت کرے تو کھانا کھا کر جلد واپس چلے جاؤ دیر تک نہ بیٹھے رہا کرو۔عورتیں پس پر وہ مرد سے بات کر سکتی ہیں مگر اس طرح چبا چبا کر اور نخرے سے نہیں کہ بات کرنے والے کے دل میں کوئی بُرا خیال پیدا ہو۔معاشرہ کو پاک رکھنے کیلئے حکم ہے کہ لڑکی بغیر ولی کی منظوری کے شادی نہیں کر سکتی قوم کوحکم ہے کہ بیواؤں کی شادیاں کرواؤ۔غرض معاشرہ میں ہر وہ سوراخ جس سے گندگی ، بے حیائی فحش پھیلنے کا ڈر ہے اس پر بند باندھا گیا ہے اس سے روکا گیا ہے۔عورت کی عزت کو اتنا محفوظ کیا گیا ہے کہ اس پر کوئی الزام لگاوے تو حکم ہے کہ جب تک چار گواہ نہ ہوں بات نہ مانی جائے۔اس لئے ضروری ہے کہ