خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 412 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 412

خطابات مریم 412 خطابات ہوگی۔اس فرق کو کچھ تفصیل سے بیان کروں گی عیسائیوں کے عقائد کے لحاظ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے صلیب پر چڑھ کر ان کے گناہوں کا کفارہ ادا کر دیا ہے۔اب وہ کچھ بھی کریں کوئی پوچھ گچھ نہیں۔نیکی اور گناہ کا تصور ہی ختم کر دیا لیکن ایک مسلمان جس کا عقیدہ ہے کہ ایک دن آنے والا ہے جب وہ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے نیک اعمال کی جزا اور بداعمال کی سزا ملے گی لیکن اللہ تعالیٰ مالک یوم الدین ہے غفور الرحیم ہے وہ جسے چاہے بخش بھی دے گا وہ اپنی زندگی میں لازماً نیکی اختیار کرنے اور بُرائی سے بچنے کی کوشش کرے گا۔ایک ہندو جس کا یہ عقیدہ ہے کہ مرنے کے بعد روح کو ایک اور جون ملتی ہے اور ان کا پر میشر کسی کو معاف ہی نہیں کر سکتا۔وہ اپنے رب سے کبھی دعا نہیں مانگے گا دعا وہی انسان مانگے گا جس کو یہ یقین ہو کہ میرا رب دعائیں سنتا ہے وہ قادر ہے وہ مالک ہے سب اختیارات اس کے ہیں۔ان باتوں کو سامنے رکھنے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ہماری تہذیب وہ ہونی چاہئے جو قرآن مجید کی تعلیم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی زندگی اور آپ کے ارشادات کا عکس ہو اور اس کی تصویر یقیناً مغربی تہذیب سے جدا گانہ ہو گی۔اس زمانہ میں ہماری عورتوں اور بچیوں پر مغربی تہذیب کے کیا اثرات ہیں۔ان کا تجزیہ کرنے کے بعد پھر میں احمدی خواتین کی ذمہ داریوں کی طرف آؤنگی۔مغربی تہذیب کے تباہ کن اثرات سب سے پہلے تو مغربی تہذیب کے رنگ میں رنگ جانے والی خواتین پردہ کی مخالف ہو جاتی ہیں اور وہی اعتراض شروع کر دیتی ہیں جو ایک عیسائی اعتراض کرتا ہے کہ پردہ سے عورت کی صحت خراب ہوتی ہے یا پردہ کے ساتھ اعلی تعلیم حاصل نہیں ہو سکتی یا پردہ سے عورت ترقی نہیں کر سکتی۔کام نہیں ہو سکتا وغیرہ وغیرہ۔ان سب باتوں کے پیچھے موجودہ زمانہ کی بظاہر جگمگاتی تہذیب جس میں مرد اور عورت کا آزادانہ ملنا جلنا ہے ان کو مجبور کر رہا ہوتا ہے کہ وہ ان کی نقل کریں۔نقل کرنے کے لئے ان کا نفس مجبور کر رہا ہوتا ہے کہ پہلے اعتراض کرو نقص نکالو، پھر پردہ چھوڑو اور دوسروں کو بھی اس بے راہ روی پر چلنے کی تلقین کرو۔وہ بھول جاتی ہیں کہ اس طرح تو وہ عیسائیوں اور دوسرے مذاہب کے پیرؤوں کے ( جو ہرگز نہیں چاہتے کو اسلام