خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 395 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 395

خطابات مریم 395 خطابات کندھے پر سے پھلانگتے ہوئے آگے نہ جاؤ۔لیکن ہم مسجد میں یہ نظارہ دیکھتے ہیں کہ دو ایک جگہ بیٹھ گئیں دو ایک جگہ بیٹھ گئیں اور بعد میں آنے والی دوسروں کو دھکے دے کر آگے جانے کی کوشش کریں گی۔نماز ختم ہونے کے بعد ابھی حضور تشریف بھی نہیں لے گئے ہوتے کہ بچیاں اُٹھ کر بھاگنے کی کوشش کریں گی۔کیوں؟ آپ کسی ملک میں جا کر دیکھیں کھیل ہو تماشہ بازار ہو یا ہسپتال ، عبادت گاہ ہو یا سنیما ہاؤس ہر جگہ داخلہ قطار کے ساتھ ہو رہا ہوتا ہے۔کوئی کسی کو دھکا دے کر آگے جا کر کھڑا ہونے کی جرات ہی نہیں کر سکتا۔حالانکہ اس کا اصل سبق نماز سے اسلام نے شروع کیا ہے مسلمانوں سے اسلام کی اچھی باتیں ان لوگوں نے اپنالیں۔ہم بھول گئے۔پس اس سال کے لئے میں ناصرات کو پروگرام دیتی ہوں کہ ہر شہر، قصبہ اور گاؤں میں عہد یدران لجنہ بھی اور عہدیدران ناصرات بھی بچیوں کو سکھائیں کہ جو پہلے جا رہا ہے اس کا آگے جانے کا حق ہے۔پیچھے سے دھکا دے کر نہیں گزرنا۔یہ عادت صبر کرنا بھی سکھاتی ہے نماز میں بھی اول تو پہلے آنے والی پہلی صف میں بیٹھے لیکن اگر آخر سے بنانی شروع کی تو کندھے سے کندھا جوڑ کر بیٹھے۔وقفہ کسی صورت میں نہیں چھوڑنا پھر مسجد کے دوسرے آداب آپ ان کو اس طرح رٹا ئیں کہ وہ پھر نہ بھولیں۔مثلاً دوران خطبہ نہ بولنا مسجد کی طرف نہ بھاگتے ہوئے آنا نہ بھاگتے ہوئے جانا۔چلتے ہوئے کسی کو دھکا دے کر نہ گزرنا۔مسجد کی صفائی کا خیال رکھنا۔کچھ کھا کر کاغذ زمین پر پھینک دینا احمدی بچی کی شان نہیں۔کھا کر وہ کاغذ جو کوڑا کرکٹ پھینکنے کا ڈرم ہے اس میں ڈالیں سیکرٹریان اور مائیں اگر بچیوں کی طرف پوری طرح توجہ دیں گی تو کل یہی تربیت یافتہ ممبرات لجنہ اور قوم کی مائیں قوم کو ملیں گی۔گزشتہ سال میں نے اعلان کیا تھا کہ ہر لجنہ جسے اپنی بہترین بچی قرار دے گی اسے انعام دیا جائے گا۔ان کے ناموں کا اعلان تو انشاء اللہ جو اس سال نام آئے ہیں کیا جائے گا۔سندات دی جائیں گی۔لیکن جو طریق بنایا گیا ہے اس پر لجنات نے پوری طرح عمل نہیں کیا ہر نام تین عہدیداروں نے منتخب کرنا تھا اور رپورٹ پر ان تینوں کے دستخط آنے چاہئیں تھے اور اس کی بہترین بچی منتخب کرنے کی وجو ہات لکھنی چاہئے تھیں جس کے ساتھ رپورٹ نہیں آئے گی صرف نام بھیجنے پر اسے انعام نہیں ملے گا اور سارے پاکستان میں بہترین بچی کے گولڈ میڈل کا فیصلہ اس وقت ہوگا جب ساری شرائط لجنات پوری