خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 394 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 394

خطابات مریم 394 افتتاحی خطاب بر موقع سالانہ اجتماع ناصرات الاحمدیہ مرکز یہ 1983ء میری نہایت ہی پیاری بچیو ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ خطابات پ سب کا اجتماع میں آنا مبارک ہو خدا کرے آپ کا یہاں چند دن قیام کرنا آپ کے لئے فائدہ مند ثابت ہو۔آپ یہاں سے کچھ سیکھ کر جائیں، کچھ تربیت حاصل کر کے جائیں آپ کے دلوں میں دین کا کام کرنے کا شوق پیدا ہو، قربانی اور خدمت کا جذبہ پیدا ہو۔آپ کا نام ناصرات ہے۔ناصرہ کہتے ہیں مدد کرنے والی کو۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ کس کی مدد آپ نے کرنی ہے تا حقیقت میں آپ اپنے نام کی مستحق ہوں۔سو میری بچیو! آپ نے ایک طرف دین کے کاموں میں اپنی بڑی بہنوں کا ہاتھ بٹانا ہے۔دوسری طرف آپ نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کی خدمت کرنی ہے۔یا درکھیں کہ اسلام کے دو بڑے پہلو ہیں ایک خدا تعالیٰ کے حقوق ادا کرنا یعنی جو عبادت اللہ تعالیٰ نے جس عمر میں انسان پر فرض کی ہے وہ ادا کرنا۔دوسرے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حقوق ادا کرنا۔یعنی اس سے کسی دوسرے کو دکھ نہ پہنچے۔کوئی تکلیف نہ پہنچے۔نہ اس کی زبان سے نہ ہاتھ سے۔صرف اس پر خوش نہیں ہونا چاہئے کہ ہم کسی کو تکلیف نہیں پہنچاتے بلکہ اس وقت آپ مطمئن ہوں جب آپ کے وجود سے دوسرے کو فائدہ پہنچ رہا ہو۔آپ ابھی چھوٹی ہیں اس لئے تکلیف پہنچانے والی بعض باتیں آپ کے سامنے رکھوں گی کہ ہر جگہ ناصرات اس کی مشق کریں۔آج دنیا کے سب ممالک ان باتوں پر عمل کر رہے ہیں جن کی ہدایت اسلام نے دی ہے۔اسلام نے سب سے پہلے نماز میں صف بندی کا حکم دیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس طرح قطار بناؤ کہ کوئی خلا نہ رہے کسی کے