خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 385 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 385

خطابات مریم 385 خطابات وہ زندگی گزاریں جس کی ہدایت قرآن دیتا ہے ہمارا اعلیٰ نمونہ ایسا ہونا چاہئے جس کو دیکھ کر دنیا یہ کہے کہ یہ سب سے جدا انسان ہیں حضرت سیدہ ام امتین مریم صدیقہ صاحبہ مدظلہا نے جماعت امریکہ کے سالانہ کنونشن منعقدہ 13 اگست 1983ء بمقام ڈیٹرائٹ جو خطاب لجنہ اماء اللہ کے جلسے میں فرمایا وہ ذیل میں پیش کیا جا تا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔يايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ ادْتُكُمْ عَلى تِجَارَةٍ تُنْجِيْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ تُؤْمِنُونَ باللهِ وَرَسُولِهِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَ انْفُسِكُمْ ذلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ (الصف: 11، 12) ترجمہ: اے مومنو کیا میں تمہیں ایک ایسی تجارت کی خبر دوں جو تم کو دردناک عذاب سے بچائے گا وہ تجارت یہ ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اللہ کے رستہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کر وا گر تم جانو یہ تمہارے لئے بہت بہتر ہے۔تجارة کہتے ہیں ایک چیز سے لے کر دوسری چیز حاصل کرنا۔پیسے دے کر کپڑ الینا یا کوئی بھی چیز خریدنا۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی ایک تجارت کی اطلاع مومنوں کو دیتا ہے جس کے نتیجہ میں کچھ خرچ کر کے انسان عذاب سے بچتا اور اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کرتا ہے وہ تجارت ہے اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کامل ایمان رکھنا اور اللہ تعالی کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کرنا۔اس میں دو قسم کے کام بتائے ہیں۔ایک اعتقاد سے تعلق رکھتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ پر ایمان اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر