خطابات مریم (جلد دوم) — Page 15
خطابات مریم 15 تحریرات تھیں۔اسی وقت ٹوک کر اصلاح کر دیتی تھیں۔سکول میں ظہر کی باجماعت نماز استانی جی پڑھاتی تھیں۔حضرت مسیح موعود کی کتب کے امتحانات نظارت تعلیم کی طرف سے ہوتے تھے تو استانی جی سب مڈل اور ہائی کی طالبات کو بٹھا کر کتاب پڑھایا کرتی تھیں اور جب نتیجہ نکلتا تو اُن کی پڑھائی ہوئی طالبات کے نمبر خودان سے زیادہ ہوا کرتے تھے۔قرآن مجید سے عشق تھا بہت خوش الحانی سے بلند آواز سے تلاوت فرمایا کرتی تھیں۔مگر پڑھتے پڑھتے جذبات پر قابو نہ رہتا تھا آواز بھرا جایا کرتی تھی۔سینکڑوں لڑکیوں کو آپ نے ناظرہ اور ترجمہ پڑھایا۔جب میں نے تاریخ لجنہ مرتب کی تو استانی جی نے فرمایا کہ 1918ء میں مدرسۃ البنات خاں صاحب مولوی فرزند علی خاں صاحب مرحوم کے مکان میں منتقل ہوا اور اسی سال سے آپ نے اس سکول میں پڑھانا شروع کیا۔مزید کہا کہ ۱۹۱۹ ء سے لے کر آخر تک یعنی جب تک ان میں طاقت رہی انہوں نے ہر جلسہ سالانہ میں شرکت کی۔1922 ء میں حضرت مصلح موعود نے لجنہ اماءاللہ کی بنیاد رکھی اور چودہ ممبرات سے ایک کا غذ پر ممبر بننے کے لئے دستخط کروائے گئے بارہویں نمبر پر آپ کا نام یوں درج ہے۔(12) جناب میمونہ خاتون صوفیہ اہلیہ مولوی غلام محمد صاحب (احمدی خاتون سلسلة الجدید جلد نمبر 1 صفحہ 6) جو عہد کام کرنے کا آپ نے 1922ء میں باندھا وہ آخر وقت تک نبھایا۔صحت خراب ہونے کے باعث آپ کے پاس کوئی عہدہ نہ رہا مگر کوئی نہ کوئی کام کرتی ہی رہتیں۔آنے جانے اور ملنے والیوں کو چندوں کی ادائیگی کی طرف ہی توجہ دلا دیتیں۔یہ چودہ ممبرات بنیاد تھیں لجنہ کی اور گویا اسے پہلی مجلس عاملہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ان میں سے ہی عہدہ دار چنی گئیں۔حضرت سیدہ ام نا صر مرحومہ پہلی صدر اور حضرت سیدہ امتہ الحی پہلی سیکرٹری چنی گئیں اور استانی میمونہ صاحبہ کے ذمہ چندہ کی وصولی کا کام سپرد کیا گیا۔گویا آپ سب سے پہلی سیکرٹری مال تھیں۔1961ء تک سیکرٹری مال رہیں۔سیکرٹری مال کے علاوہ قادیان کے محلہ دارالفضل میں بھی کام کیا ہے لجنہ مرکزیہ کی انسپکٹرس بھی رہیں۔سٹور بھی چلایا ہے اور لجنہ مرکزیہ کی ہدایت کے متعلق لجنات