خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page iv of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page iv

دیباچه حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ کی تقایر کا دوسرا مجموعہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔آپ سیدہ کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں۔جماعت احمدیہ میں چھوٹی آپا کے نام سے معروف تھیں 7 اکتوبر 1918ء میں ایک صوفی منش فنافی اللہ انسان حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب جو حضرت اماں جان کے بھائی تھے کے یہاں پیدا ہوئیں۔آپ کے والد محترم نے آپ کو خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کر دیا۔حضرت سیدہ فرماتی ہیں:۔اکتوبر 1918ء کو میری پیدائش ہوئی چونکہ اور کوئی پہلے اولا د نہ تھی اس لئے میرے ابا جان نے مجھے ہی خدا تعالیٰ کے حضور وقف کر دیا۔اس کا اظہار ابا جان نے اپنے کئی مضامین میں بھی کیا اور جب میری شادی ہوئی تو آپ نے مجھے کچھ نصائح نوٹ بک میں لکھ کر دیں۔اس میں آپ نے تحریر فرمایا:۔مریم صدیقہ جب تم پیدا ہوئیں تو میں نے تمہارا نام مریم اس نیت سے رکھا تھا کہ تم کو خدا تعالیٰ اور اس کے سلسلہ کے لئے وقف کر دوں اسی وجہ سے تمہارا دوسرا نام نذرانہی بھی تھا۔“ (الفضل 25 مارچ 1966 ) اس فنافی اللہ باپ کی خدا تعالیٰ کے حضور شبانہ روز دعاؤں اور گریہ وزاری میں اپنی بیٹی کے وقف کو قبول فرمانے کی تڑپ کا اظہار تھا۔ایک نظم جو آپ نے اپنی بیٹی (حضرت سیدہ) کی طرف سے کہی۔وہ حضرت میر صاحب کی خواہشات اور حضرت سیدہ موصوفہ کی زندگی کی مکمل عکاسی کرتی ہے۔اور احمدی بچوں میں بے حد مقبول ہے۔ابھی مجھے سیدھا رستہ دکھا دے مری زندگی پاک و طیب بنا دے مجھے دین و دنیا کی خوبی عطا کر ہر اک درد اور دُکھ سے مجھ کو شفا دے زباں پر مری جھوٹ آئے نہ ہر گز کچھ ایسا سبق راستی کا پڑھا دے