خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 373 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 373

خطابات مریم 373 خطابات یورپ میں بسنے والی احمدی خواتین کو کار آمد نصائح ممبرات لجنہ اماءاللہ فرینکفرٹ سے خطاب) آپ نے 3 / جولائی 1983ء کو لجنہ اماءاللہ فرینکفورٹ ( مغربی جرمنی ) سے جو خطاب فرمایا وہ درج ذیل کیا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے۔تبْرَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ : وَ هُوَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ - الَّذِي خَلَقَ المَوْتَ وَالْحَيوة لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا، وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغُفُورُ - (الملک : 2 ،3) ترجمہ: بہت برکت والا ہے وہ خدا جس کے قبضہ میں بادشاہت ہے اور وہ ہر ایک ارادہ کے پورا کرنے پر قادر ہے اس نے موت اور زندگی کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ تم کو آزمائے کہ تم میں سے کون زیادہ اچھا عمل کرنے والا ہے۔اور وہ غالب اور بہت بخشنے والا ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے نظام کائنات کی غرض کو بیان فرماتا ہے کہ اس کا ئنات میں موت اور زندگی کا سلسلہ اس لئے جاری فرمایا کہ معلوم ہو کہ کون اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے مزہ اُٹھاتے ہوئے صحیح راستہ اختیار کرتا ہے اور اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کرتا ہے اور کون اس راستہ پر نہیں چلتا جو اللہ تعالیٰ کی طرف جاتا ہے۔اس کا شکر گزار بندہ نہیں بنتا۔اس مضمون کو سورۃ کہف میں اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْاَرْضِ زِينَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً (الكهف : 8) ہم نے دنیا میں اعلیٰ سے اعلیٰ چیزیں پیدا کر کے انسان کو اس میں مقرر کیا تا کہ ہم یہ دیکھیں کہ انسانوں میں سے کون زیادہ خوبصورت عمل کرتا ہے۔یعنی کون کس قدر خدا تعالیٰ کی صفات کو