خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 363 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 363

خطابات مریم 363 خطابات طرح ادا کرے اس قرآنی حکم کے مطابق ایک ایسا شخص جو تمام ارکان اسلام بجالا تا ہے مگر کسی کا حق چھینتا ہے ، کسی پر ظلم کرتا ہے ، کسی کو تکلیف دیتا ہے ، وعدہ کر کے مکر جاتا ہے ، جو حقوق اللہ تعالیٰ نے اس کے رشتہ داروں ہمسائیوں اور ملنے جلنے والوں پر رکھے ہیں ادا نہیں کرتا وہ نیک نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کے احکام پر چلنے کے نتیجہ میں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء کی بیعت کرنے کے بعد ہم میں ایک نمایاں تبدیلی پیدا ہونی چاہئے ایسی تبدیلی جو دنیا کو نظر آئے اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مان کر بھی ہم میں تبدیلی پیدا نہ ہو تو کیا فائدہ۔ایسی تبدیلی ہو کہ احساس ہو کہ زندہ خدا کے ساتھ تعلق پیدا ہو گیا ہے۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ :۔”ہماری جماعت کیلئے یہ سوال کوئی معمولی سوال نہیں بلکہ ان کی زندگی اور موت کا سوال ہے کیونکہ اس وقت خدا کا ایک نبی آیا جسے ہم نے قبول کیا اگر ان کو مان کر بھی ہم گندے رہے تو اس کو ماننے کا فائدہ ؟"۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام تزکیہ نفس کی نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :۔تزکیہ نفس اسے کہتے ہیں کہ خالق اور مخلوق دونوں طرف کے حقوق کی رعایت کرنے والا ہو۔خدا تعالیٰ کا حق ہے کہ جیسا زبان سے وحدہ لاشریک اسے مانا جائے ایسا ہی عملی طور پر اسے مانیں مخلوق کے ساتھ برابر نہ کیا جائے اور مخلوق کا حق یہ ہے کہ کسی سے ذاتی طور پر بغض نہ ہو، تعصب نہ ہو ، شرارت انگیزی نہ ہومگر یہ مرحلہ دور ہے ابھی تمہارے معاملات آپس میں صاف نہیں۔غیبتیں بھی ہوتی ہیں ایک دوسرے کے حقوق بھی دباتے ہو۔” پس خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ جب تک تم ایک وجود کی طرح بھائی بھائی نہ بن جاؤ گے تو فلاح نہ پاؤ گے۔انسان کا جب بھائیوں سے معاملہ صاف نہیں تو خدا سے بھی نہیں بے شک خدا تعالیٰ کا حق بڑا ہے مگر اس بات کو پہچاننے کا آئینہ کہ خدا کا۔حق ادا کیا جا رہا ہے یہ ہے کہ مخلوق کا حق بھی ادا کر رہا ہے یا نہیں جو شخص اپنے بھائیوں سے معاملہ صاف نہیں رکھ سکتا وہ خدا سے بھی صاف نہیں رکھتا۔۔۔سچی محبت اور چیز ہے اور منافقانہ اور۔دیکھو مومن کے مومن پر بڑے حقوق ہیں۔جب وہ بیمار پڑے تو