خطابات مریم (جلد دوم) — Page 362
خطابات مریم 362 خطابات یعنی اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر لے اگر کوئی مذہب اس طرف رہنمائی نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ کا پیار کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے اس کے قرب کی راہیں کیا ہیں تو وہ مذہب زندہ مذہب نہیں اسلام ہی وہ مذہب ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ ہمارا خدا زندہ خدا، ہمارا مذہب زندہ مذہب اور ہمارے پیارے نبی ﷺ زندہ نبی ہیں اور اپنی زندگی کا ثبوت ہر زمانہ میں اس نے دیا ہے اور وہ اپنے بندوں کو گمراہ نہیں ہوتا دیکھ سکتا۔اس نے اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس لئے بھیجا کہ آپ کے ذریعہ سے اسلام کے غلبہ کا سامان ہو۔دنیا کی محبت میں ڈوبے ہوئے لوگ آپ کو مان کر دین کو دنیا پر مقدم کریں۔نفرت کی بجائے پیار، دشمنی کی بجائے دوستی اور ایک دوسرے سے ہمدردی پیدا ہو اس لئے اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے۔ليس البران تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ المَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ البِرِّ مَنْ أمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرَةِ الْمَلَكَةِ وَالْكِتَبِ وَالنَّبِينَ وَإِلَى الْمَالَ عَلَى حُتِهِ ذوى الْقُرْبى وَالْيَثْمى وَالْمَسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَ السَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ و اقام الصلوة والّى الزَّعُوةَ : وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِ هم اذا عَاهَدُواء و الشبرين في البأساء وَالضَّرَّاء وَ حِين البأس أوليك الذينَ صَدَقُوا وأوليك هُمُ الْمُتَّقُونَ - (البقرة : 178) تمہارا مشرق و مغرب کی طرف منہ کرنا کوئی بڑی نیکی نہیں لیکن کامل نیک وہ شخص ہے جو اللہ ، یوم آخرت ، ملائک ، الہی کتاب اور سب نبیوں پر ایمان لایا اور اللہ کی محبت کی وجہ سے رشتہ داروں اور یتیموں، مسکینوں اور مسافروں اور سوالیوں اور غلاموں کی آزادی کیلئے اپنا مال دیا اور نماز کو قائم رکھا اور زکوۃ ادا کی اور اپنے عہد کو جب عہد کیا پورا کرنے والے ہیں اور تنگی اور بیماری میں اور جنگ کے دنوں میں برداشت سے کام لینے والے کامل نیک ہیں یہی لوگ ہیں جو اپنے قول کے بچے نکلے اور یہی لوگ متقی ہیں۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ صرف مذہب کو مان لینا ہی کافی نہیں بلکہ جب تک عمل نہ کیا جائے اور عمل کے لحاظ سے حقیقی نیک انسان وہی قرار پاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے حقوق بھی پوری طرح ادا کرے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حقوق بھی پوری