خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 361 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 361

خطابات مریم 361 خطابات کے لئے کیا تیاری کی ہے جب عیسائیت ، لامذہبیت اور دوسرے مذا ہب سے بے زار ہو کر لوگ کثیر تعداد میں اسلام کے دامن میں پناہ ڈھونڈیں گے اور اسلام قبول کریں گے تو وہ بھی تو تیار ہونے چاہئیں جو ان کی تربیت کر سکیں اور ان کو دین سکھا سکیں۔یہاں کی جماعت کی موجودہ احمدی خواتین اور بچیاں جن پر بڑے ہو کر زیادہ ذمہ داری پڑنے والی ہے تیار نہیں ہونگی تو کیسے اخلاق کی تعلیم دیں گی ، کیسے ان کی تربیت کریں گی ، اس آنے والے دن کی تیاری میں آج سے لگ جانا چاہئے۔جہاں ہمارا یہ فرض ہے کہ احمدیت جو حقیقی اسلام ہے اس کا پیغام غیر احمد یوں اور غیر مسلموں تک پہنچائیں وہاں ہمارا یہ بھی فرض ہے کہ اپنے آپ کو ان کے سامنے ایک نمونہ بنائیں اور خود کو تیار کریں تا وہ اسلام قبول کر کے جماعت میں نئے داخل ہونے والوں کی تربیت کر سکیں۔جس طرح ایک چراغ سے دوسرا چراغ جلتا ہے اسی طرح تربیت کا تسلسل جاری رہنا چاہئے اگر یہ تسلسل جاری نہ رہے تو قوم کمزور ہو جاتی ہے اور خلا پیدا ہو جاتا ہے۔دوسری چیز ضروری یہ ہے کہ ہماری قومی ترقیوں کا معیار یکساں ہو کہ ایک قوم سے آٹھ دس خواتین چندہ کے لحاظ سے، کام کرنے کے لحاظ سے ، تقویٰ کے لحاظ سے اعلیٰ معیار کا نمونہ پیش کر رہی ہوں اور باقی سوئی ہوئی ہوں ان کو احساس ہی نہ ہو کہ احمدیت ہم سے کن قربانیوں کا مطالبہ کر رہی ہے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ياَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا في التسليم كافة (البقره: 209) اے مومنو تم سب فرمانبرداری کے دائرہ میں آ جاؤ۔اس زمانہ میں احمدیت کو اللہ تعالیٰ نے عافیت کا حصار قرار دیا تھا اور مکمل فرمانبرداری کے ساتھ ہی اس حصار عافیت میں داخل ہوا جا سکتا ہے۔عربی میں اسلام کے معنی فرمانبرداری کے ہوتے ہیں یعنی خدا تعالیٰ کے ہر حکم کو بجالا نا اور جس سے منع کیا ہے اس سے رک جانا یہ اسلام ہے۔قرآن مجید کہتا ہے کہ فرمانبرداری کا معیار ساری قوم کا یکساں ہو۔یہ نہیں کہ کوئی فرمانبردار ہے اور کوئی نہیں اور اسلام پر اعتراض کر رہا ہے کوئی کم فرمانبردار ہے اور کوئی زیادہ۔ترقی اس وقت شروع ہوگی جب اطاعت کا معیار یکساں سب کا بلند ہوتا جائے گا۔فرمانبرداری اختیار کرنا تو دراصل پہلا قدم ہے اس زینہ پر قدم رکھنے کیلئے پھر ترقی کے اور زمینوں پر چڑھنا ہے یہاں تک کہ انسان اپنا مقصد حیات پالے۔