خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 359 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 359

خطابات مریم 359 خطابات اس میں ہرا لجھن ہر مسئلے کا حل بیان ہے اور ہماری ترقی بھی اسی سے وابستہ ہے۔اپنی اگلی نسل کیلئے خواہ وہ لڑکے ہیں یا لڑکیاں سب کی ذمہ دار مائیں ہیں۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے اور ایک حدیث میں ہے کُلُّكُمْ رَاعٍ وكُلَكُمْ مَسْؤُلٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ یعنی تم میں سے ہر ایک چروا ہے یا گڈریے کی سی حیثیت رکھتا ہے اور اُس سے اس کی رعایا کے متعلق پوچھا جائے گا گھر کی نگہبان تو عورت ہی ہوتی ہے کیونکہ آدمی تو روزی کمانے کیلئے باہر نکل جاتا ہے۔اس لئے اپنے پیارے پیارے بچوں کو مسلمان بنا ئیں۔اُن کے اندر دین کی محبت پیدا کریں۔دین کی خاطر قربانی کا جذبہ پیدا کریں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات پر عمل کرنے کا شوق پیدا کریں۔اُن کو پیاری پیاری کہانیاں سنا کر آپ کی زندگی کے حالات سنائیں اُن کے صحابہ کی زندگیوں کے حالات سنائیں تا کہ اُن کے دلوں میں وہ واقعات رچ جائیں اور وہ اُن پر عمل کر سکیں۔اُن کے اندر یہ احساس پیدا کریں کہ بے شک تم برطانیہ میں رہ رہے ہو لیکن تم وہ نہیں ہو جیسے یہاں کے دوسرے رہنے والے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے تمہیں خاص مقصد دے کر پیدا کیا ہے اور وہ مقصد ہے غلبہ اسلام۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنی نئی نسل کو یہاں کی گمراہی سے بچاتے ہوئے بُرے ماحول سے الگ رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ دین اسلام کو ترقی۔۔۔۔۔۔کرتے ہوئے اور جلد سے جلد اسلام کا جھنڈا اس ملک میں لہراتے ہوئے دیکھیں اور اس کے جس قسم کی بھی قربانی کی ہمارے رب کو ضرورت ہو ہمارے مرد بھی اور بچے بھی اور عورتیں بھی اُن قربانیوں پر لبیک اللھم لبیک کہتے ہوئے آگے ہی آگے بڑھتے چلے جائیں۔آمین (صدر لجنہ اماءاللہ برمنگھم 1983ء) ( الفضل 8 اگست 1983ء) ☆☆۔۔۔۔۔۔☆