خطابات مریم (جلد دوم) — Page 358
خطابات مریم 358 خطابات کچھ بتا ئیں تو آپ نے فرمایا: کہ آپ کے اخلاق قرآن تھے آپ جو تعلیم دیتے تھے اُس پر آپ خود عمل کرتے تھے۔آپ کے قول و فعل میں کسی قسم کا تضاد نہ تھا۔یہی ہمارا طریقہ اور اصول ہونا چاہئے۔ہم اپنے دلوں کو ٹولتے رہیں کہ آیا جو ہم کہتے ہیں اُس پر عمل بھی کرتے ہیں یا نہیں۔مثلاً قرآن مجید میں آیا ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ عورت اپنی زینت کو دوسروں پر ظاہر نہ کرے۔پردے کا حکم ہے۔بے شک بعضوں کو کام بھی کرنا پڑتا ہے باہر بھی جانا پڑتا ہے تو اپنی زینت کو چھپا کر یہ سب کچھ کیا جاسکتا ہے۔اب ایک طرف بہنیں جو اپنی زینت جو چھپانی چاہئے نہیں چھپاتیں وہ گلی کوچوں میں پھر رہی ہیں تو دوسرے الفاظ میں وہ اعلان کر رہی ہیں کہ قرآن مجید نعوذ باللہ پورے کا پورا قابل عمل نہیں ہے۔قرآن کے ایک حکم کو توڑا بھی جا سکتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو ہمیشہ کیلئے ساری دنیا کے رہنے والوں کیلئے خواہ وہ شمال کے رہنے والے ہوں یا جنوب کے مشرق کے ہوں یا مغرب کے گورے ہوں یا کالے۔سب کیلئے یکساں بنایا ہے۔یہ وہ مکمل ضابطہ حیات ہے جس پر عمل کر کے مسلمانوں نے ترقی کی تھی اور آئندہ بھی ترقی کر سکتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر لوگ یہ الزام لگاتے ہیں کہ آپ نعوذ باللہ کوئی نئی شریعت لائے حالانکہ آپ کی تو نظم ، نثر ہر جگہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حمد، تعریف اور قرآن کریم کے فضائل بیان کئے گئے ہیں۔آپ کہتے ہیں کہ میں نے جو کچھ حاصل کیا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی اور اطاعت سے حاصل کیا ہے۔اگر میں آپ کی اُمت میں نہ ہوتا، آپ کی غلامی میں نہ ہوتا تو خواہ کتنی بھی کوشش کرتا یہ سب کچھ نہ حاصل کر سکتا۔مجھے جو کچھ ملا ہے آپ کی ہی طفیل ملا ہے۔آپ نے اپنے آنے کا مقصد ہی یہ بیان کیا ہے کہ خدا اور خدا کے بندے کے درمیان سے جو رشتہ کٹ گیا تھا میں یہ دور کرنے کیلئے آیا ہوں تا کہ لوگ اپنے رب کو پہچانیں اور اس سے محبت کریں۔وہ خدا کے دین سے پیار کریں۔پس میری بہنو کوشش کریں، قرآن مجید پڑھنے کی اس کا ترجمہ سیکھنے کی اور سمجھنے کی اور پھر کوشش کریں کہ ہم نے قرآن کریم اور ترجمہ صرف کہانی کے طور پر نہیں پڑھنا بلکہ اس پر عمل بھی کرنا ہے کیونکہ یہ عقائد کا نام نہیں بلکہ اس میں انسان کی زندگی کے مسائل رکھے گئے ہیں۔اس کی پیدائش سے لے کر موت تک کے