خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 357 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 357

خطابات مریم 357 خطابات واقعات اور اُن کی قربانیوں کے قصے سنے ہونگے لیکن یہاں پر جو نسل پروان چڑھ رہی ہے اگر اُس کی ذمہ داری آپ نے نہ اُٹھائی اُن کو علم سے یعنی قرآن پاک کے علم سے اُن کے دل منور نہ کئے۔اُن کو حدیث نہ سکھائی اُن کو اسلام کی تعلیم پوری طرح نہ دی تو یہ ایک بہت بڑا گناہ ہوگا جو آپ سرانجام دے رہی ہونگی۔کیونکہ آج جو نسل پروان چڑھ رہی ہے کل کو تمام قوم کی ذمہ داریاں انہی پر پڑنے والی ہیں اس لئے اگر آپ چاہتی ہیں کہ اگلی نسل مخلص ہو، نیک ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والی ہو۔اُن کی گودوں سے مجاہد پیدا ہوں وہ ہر طرح کی قربانیاں کرنے والے ہوں تو میری بہنو اس کے لئے آپ کو خود قربانی دینی پڑے گی۔اپنا نیک نمونہ دکھانا پڑے گا ایسا نمونہ جو ایک کچی نیک اور دیندار عورت کا ہوتا ہے۔اس ملک میں ا رہتے ہوئے اگر آپ کے بچے یہ دیکھیں گے کہ اُن کے گھروں میں نماز پڑھی جاتی ہے قرآن پاک کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ خود بخود سیکھیں گے کہ ہمیں بھی ایسا کرنا چاہئے لیکن جو مائیں اپنی ذمہ داریوں سے کوتاہی کریں گی اُن کے بچے بھی ویسے ہی نکلیں گے۔جیسے کہ برطانیہ کے دوسرے بچے۔یہ بہت بڑی بات ہے بہت بڑی خدمت سرانجام دینی ہے بہنو آپ نے۔اس لئے اپنے فرض کو پہچانیں ، اپنی ذمہ داری کو نبھا ئیں ، اپنے بچوں کے اندر خدا تعالیٰ کی محبت پیدا کریں، اُن کے اندر اپنے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پیدا کریں ، اُن کی اطاعت کا جذبہ پیدا کریں کہ جو بات وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنیں اُن پر عمل کریں۔اُن کے اندر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت پیدا کریں۔اُن کی اطاعت کا جذبہ پیدا کریں۔نظام جماعت کی اطاعت کا جذبہ پیدا کریں کیونکہ کوئی بھی مبلغ ہو یا جماعت کا پریذیڈنٹ ہو بہر حال وہ خلیفہ وقت کا نمائندہ ہوتا ہے اور جب تک آپ اپنے عہدہ داروں کا اور خاص طور پر مبلغ کا کہنا نہیں مانیں گی، اُس کے بنائے ہوئے پروگرام پر عمل نہیں کریں گی تو نہ خود ترقی کر سکیں گی اور نہ آپ کے بچے ترقی کر سکیں گے۔ابھی میری جس بہن نے حضرت مصلح موعود کی نظم پڑھی تھی اُس میں ایک شعر یہ تھا کہ آپ کے ہاتھ میں قرآن ہوا اور آپ کے دلوں میں نور ہو تو ہاتھوں میں قرآن کا مطلب یہ ہے کہ آپ نمونہ قرآن ہوں۔جس طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کسی نے سوال کیا کہ ہمیں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے متعلق