خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 355 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 355

خطابات مریم 355 خطابات بھیجنا چاہئے تا کہ اس درود کی برکتوں سے آپ بھی ترقی حاصل کریں اور اس ملک میں جو گڑھ ہے دجالیت کا۔جلد سے جلد اسلام پھیلے اور لوگوں کا اسلام کی طرف دھیان ہو یہاں صرف ایک ہی کلمہ ہو۔لا الہ الا الله محمد رسول الله اور ساری دنیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں آجائے کیونکہ انسانیت کے اصل نجات دہندہ انسان ، نجات دہندہ نبی اور انسانیت کے محسن کہلانے کے مستحق صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔جب تک مسلمان قرآن مجید پر عمل کرتے رہے وہ دنیا میں آگے سے آگے ہی بڑھتے چلے گئے انہوں نے فتوحات کیں ، دوسرے ملکوں میں پھیلے، دوسرے لوگوں کو اسلام میں داخل کیا۔دنیا کو ایک نئے طرز تمدن اور تہذیب سے روشناس کیا۔آپ میں سے جو بہنیں بھی پین کی مسجد کے افتتاح کے موقع پر گئیں ہونگی آج بھی وہاں مسلمانوں کے غلبہ کے آثار پائے جاتے ہیں۔باوجود اس کے کہ اتنا عرصہ گزر گیا ہے لیکن خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو جو خود اس کو چھوڑ دیتے ہیں کبھی مستقلا گمراہ نہیں چھوڑتا۔جب مسلمانوں نے قرآن مجید پر عمل کرنا چھوڑ دیا جب مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم کو بھول گئے۔اسلام کی تعلیم پر عمل نہ رہا تو پھر اُن کے زوال کی داستان بھی بڑی دردناک ہے لیکن جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو کبھی بھی مستقل طور پر گمراہ نہیں چھوڑتا۔اُس کی رحمت کے دروازے کبھی بھی بند نہیں ہوتے۔اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس غرض سے بھیجا کہ آپ کے ذریعے سے پھر اسلام کا غلبہ ہو۔آپ کے ذریعہ سے پھر اسلام کے باغ میں بہار آئے۔آپ کے ذریعہ سے پھر بھولے ہوئے لوگ صحیح اسلام کو اختیار کریں اور سچے مسلمان کہلائیں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آج سے پچانوے سال قبل قادیان میں دعویٰ کیا تھا کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے اس لئے بھیجا گیا ہوں اور خدا تعالیٰ نے مجھے بشارتیں دی ہیں کہ تمہارے ذریعہ سے پھر اسلام کا غلبہ ہو گا اور وہ دن آئے گا کہ ساری دنیا اسلام میں داخل ہو جائے گی تو آپ اس وقت اکیلے تھے۔آپ کے دوست اور رشتہ دار بھی آپ کے اس دعوی سے بدظن ہو چکے تھے دنیا کہتی تھی کہ یہ آواز دبائی جائے گی کبھی عیسائی حملہ کرتے تھے کہ ساری دنیا کو عیسائی بنایا جائے گا ایک طرف ہندو تھے کہ ہندوستان میں اسلام کا ہمدرد آج کون کھڑا ہو گیا ہے اس کو فنا کر دو اور خود مسلمان اپنے آپ کو مسلمان کہتے