خطابات مریم (جلد دوم) — Page 344
خطابات مریم 344 خطابات کوششوں کے ذریعہ سے بھی۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ حضرت عیسی وفات پا چکے ہیں۔وفات مسیح کو جہاں آپ نے قرآن مجید اور احادیث رسول سے ثابت کیا وہاں تاریخی طور پر بھی حضرت مسیح کے کشمیر جانے اور وہاں وفات پانے اور آپ کی قبر کے متعلق علم دنیا تک پہنچایا۔10 جولائی 1899ء کو ایک چٹھی حضرت مسیح موعود کے نام آئی اس میں پختہ ثبوت اور تفصیل سے لکھا تھا کہ جلال آباد ( علاقہ کابل) کے علاقہ میں یوز آسف نبی کا چبوترہ موجود ہے اور وہاں مشہور ہے کہ دو ہزار برس ہوئے کہ یہ نبی شام سے یہاں آیا تھا اور سر کا ر کا بل کی طرف سے کچھ جاگیر بھی اس چبوترہ کے نام ہے اس خط کو پڑھ کر حضرت اقدس نے فرمایا۔اللہ تعالیٰ گواہ اور علیم ہے کہ اگر مجھے کوئی کروڑوں روپے لا دیتا تو میں کبھی اتنا خوش نہ ہوتا جیسا اس خط نے مجھے خوشی بخشی ہے“۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 203) اسی طرح حضرت مفتی محمد صادق صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بہت مخلص صحابی تھے سے روایت ہے کہ ایک دفعہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس ایک کمرہ میں بیٹھے تھے اور حضور کوئی تصنیف فرما رہے تھے کہ کسی شخص نے بڑے زور سے دروازہ پر دستک دی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مفتی صاحب سے فرمایا کہ آپ دروازہ پر جا کر معلوم کریں کہ کون ہے اور کیا پیغام لایا ہے مفتی صاحب نے دروازہ کھولا تو دستک دینے والے نے بتایا کہ مجھے مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی نے بھجوایا ہے کہ حضرت مسیح موعود کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ خوشخبری ان کو سناؤں کہ فلاں شہر میں ایک غیر احمدی مولوی کے ساتھ مولوی صاحب کا مناظرہ ہوا اور مولوی صاحب نے اسے مناظرہ میں شکست فاش دی ہے مفتی صاحب بیان کرتے ہیں کہ جب میں نے حضرت مسیح موعود کی خدمت میں یہ بات پہنچائی تو حضور نے فرمایا :۔د میں اس زور دار دستک سے سمجھا تھا کہ یورپ مسلمان ہو گیا ہے اور یہ اس کی خبر لائے ہیں۔(سیرت المہدی روایت 132) اس واقعہ سے صاف ظاہر ہے کہ آپ کو کتنی شدت سے خواہش تھی کہ سارا یورپ م ہو جائے اور اسی جذبہ سے آپ نے فرمایا :۔مسلمان