خطابات مریم (جلد دوم) — Page 336
خطابات مریم 336 خطابات کتنا راضی بر رضا ر ہنے کا جذبہ ہے اپنے آقا کی خاطر ہر تکلیف برداشت کرنے کیلئے تیار ہیں لیکن ساتھ ہی کتنا تو کل ہے اللہ تعالیٰ پر کہ وہ کبھی آپ کو رسوا نہیں ہونے دے گا۔جس سے محبت ہوتی ہے اس کی مرضی مقدم ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کی مرضی مقدم ہونے کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔ابتلاء کے وقت ہمیں اندیشہ اپنی جماعت کے بعض ضعیف دلوں کا ہوتا ہے میرا تو یہ حال ہے کہ اگر مجھے صاف آواز آوے کہ تو مخذول ہے اور تیری کوئی مراد ہم پوری نہ کریں گے تو مجھے خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ اس عشق اور محبت الہی اور خدمت دین میں کوئی کمی واقع نہ ہوگی اس لئے کہ میں تو اسے دیکھ چکا ہوں“۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 302) یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ سے محبت کرتا تھا تو آپ کو اللہ تعالیٰ کا خوف نہ تھا یہ قاعدہ ہے کہ جتنا زیادہ قرب حاصل ہوتا ہے اتنا ہی ڈر بھی ہوتا ہے کہ کوئی غلطی نہ ہو جائے۔آپ فرماتے ہیں : رات کے وقت جب ہر طرف خاموشی ہوتی ہے اور ہم اکیلے ہوتے ہیں اس 66 وقت بھی خدا کی یاد میں دل ڈرتا رہتا ہے کہ وہ بے نیاز ہے۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 306) حضرت اقدس کی ساری زندگی پر نظر ڈالیں تو آپ کی ایک ایک تحریر تقریر نظم و نثر سب عشق الہی میں ڈوبی نظر آتی ہے۔ابھی آپ نے دعوئی بھی نہیں کیا تھا آپ خلوت پسند تھے اور پبلک زندگی اختیار نہیں کی جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم نہیں ہوا آپ یا مسجد میں رہتے یا الگ تھلگ اپنے کمرہ میں اور دن رات کا بیشتر حصہ عبادت الہی میں بسر ہوتا تھا۔آپ کے والد صاحب کو فکر تھی کہ آپ کوئی کام کریں گزارا کیسے ہوگا۔بار بار والد صاحب کی طرف سے اصرار ہوتا ، پر آپ نے کہا کہ میری نوکری کی فکر نہ کریں میں نے جہاں نو کر ہونا تھا ہو چکا ہوں جس پر آپ کے والد صاحب خاموش ہو گئے اور کہا اچھا اگر وہ ایسا کہتا ہے تو پھر اللہ اُسے ضائع نہیں کرے گا۔(سیرت المہدی جلد اوّل)