خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 335 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 335

خطابات مریم 335 خطابات ” ہماری غرض بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ لوگوں کو اس خدا کی طرف راہ نمائی کریں جسے ہم نے خود دیکھا ہے۔سنی سنائی بات اور قصہ کے رنگ میں ہم خدا کو دکھانا نہیں چاہتے بلکہ ہم اپنی ذات اور اپنے وجود کو پیش کر کے دنیا کو خدا تعالیٰ کا وجود منوانا چاہتے ہیں۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 212) کسی ایسے وجود سے انسان محبت نہیں کر سکتا جس سے اس کا ذاتی تعلق نہ ہواس کے اس پر احسان نہ ہوں جس طرح ایک معزز آدمی کے عزیزوں کی بھی لوگ عزت کرنے لگ جاتے ہیں۔اسی طرح خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے والے کے لئے بھی خدا تعالیٰ کے نشانات ظاہر ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔غرض ہم جو اشتہار دے دے کر لوگوں کو بلاتے ہیں تو ہماری یہی آرزو ہے کہ ان کو اس خدا کا پتہ دیں جسے ہم نے پایا اور دیکھا ہے اور وہ اقرب راہ بتلائیں جس سے انسان جلد با خدا ہو جاتا ہے۔(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 213) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اللہ تعالیٰ سے محبت اور اس پر تو کل کا ایک واقعہ سنئے۔یہ 1899 ء سے قبل کا واقعہ ہے حضرت مولوی عبد الکریم صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک بلند پایہ صحابی تھے۔لکھتے ہیں کہ قادیان میں حضرت مسیح موعود کے مکان کی تلاشی لینے ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ آئے اس سے پہلے ان کے آنے کی کوئی اطلاع نہ تھی۔حضرت میر صاحب نے سنا کہ آج وارنٹ ہتھکڑی سمیت آئے گا تو آپ بے حد پریشان ہو گئے حضرت مسیح موعود کے پاس دوڑے دوڑے گئے حضرت مسیح موعود اس وقت ”نورالقرآن“ لکھ رہے تھے سر اُٹھایا اور مسکرا کر فرمایا:۔وو میر صاحب لوگ دنیا کی خوشیوں میں چاندی سونے کے کنگن پہنا ہی کرتے ہیں ہم سمجھ لیں گے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں لوہے کے کنگن پہن لئے۔پھر ذرا تامل کے بعد فرمایا:۔مگر ایسا نہ ہوگا کیونکہ خدا تعالی کی اپنی گورنمنٹ کے مصالح ہوتے ہیں وہ اپنے خلفائے مامورین کی ایسی رسوائی پسند نہیں کرتا“۔(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 202)