خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 326 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 326

خطابات مریم 326 خطابات اجتماعی زندگی کے دوا ہم خلق سچ بولنا اور بدظنی سے اجتناب (لجنہ اماءاللہ ربوہ کے سالانہ اجتماع 1982ء کے موقع پر اختتامی خطاب ) اپنی بہنوں کو میں دو باتوں کی طرف توجہ دلانا چاہتی ہوں اور یہ ہماری اجتماعی زندگی میں بہت بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس کو آپ کے آنے کی غرض اِن الفاظ میں بیان فرمائی کہ يُحْيِ الدِّينَ وَيُقِيمُ الشَّرِيعَة ( تذکرہ صفحہ 55) یعنی آپ اسلام کو پھر سے زندہ کریں گے۔قرآن مجید کی تعلیم پر پھر اپنے ماننے والوں کو چلائیں گے اور قرآن کی حکومت کو ان کے دلوں پر قائم کریں گے۔حضرت اقدس کے ماننے والوں نے صحابہ کرام کا نمونہ دنیا کو اپنے عمل سے دکھا دیا۔اللہ تعالیٰ کے مقرب بنے خلفائے سلسلہ کے زمانہ میں جماعت نے ترقی کی۔جہاں کامل مومن قربانی دینے والے پیدا ہوئے ایسے وجود جن کو بطور نمونہ پیش کیا جا سکتا ہے۔وہاں کمزور عمل والے بھی ہیں اس لئے ہم سب کا فرض ہے جہاں عملی کمزوری دیکھیں اسے پورے طور پر اپنے معاشرہ سے دور کرنے کی کوشش کریں۔لجنہ اماءاللہ کے عہدہ داروں کا یہ ایک اہم فرض ہے۔آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے جہاں ذراسی بھی بُرائی دیکھو اگر ہاتھ سے روکنے کی طاقت رکھتے ہو تو ہاتھ سے روکو۔ہاتھ سے نہیں روک سکتے تو زبان سے روکو یعنی نصیحت کے ذریعہ ورنہ دل میں ہی اُسے بُرا سمجھو۔جن دو باتوں کی طرف میں توجہ دلانا چاہتی ہوں ان میں سے ایک خلق جو تمام اعلیٰ اخلاق کی بنیاد ہے سچ بولنا ہے۔قرآن کریم نے سچ بولنے اور بچوں کی صحبت اختیار کرنے پر بہت زور دیا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے۔ياَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَكُونُوا مَعَ الصديقين (توبة (119) اے مومنو اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو اور صادقوں کی جماعت میں شامل ہو جاؤ۔