خطابات مریم (جلد دوم) — Page 321
خطابات مریم 321 خطابات ترانے گا رہا تھا وہاں ہر دل حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کی یاد میں غمگین بھی تھا اور اس مرد مجاہد کے لئے دعائیں کر رہا تھا جس نے مسجد کی بناء ڈالی تھی۔اللهم ارفع درجاته و ادخله في اعلیٰ علیین۔آپ کا وجو دساری جماعت کے مرد عورتوں بچوں کے لئے ایک ابر رحمت کی طرح تھا۔بچوں نے تو خصوصاً آپ سے بہت ہی پیار حاصل کیا۔ساری جماعت نے اللہ تعالیٰ کے بے شمار نشان اور پیار کے جلوے دیکھے اور صرف آپ کی زندگی میں ہی نہیں بلکہ آپ کی وفات کے بعد بھی جب کہ کیفیت یہ تھی کہ بے حد تیز رفتاری سے چلتی ہوئی سواری یک لخت رُک جائے اور سر چھت سے یا آپس میں ٹکرا جائیں۔کچھ اس قسم کی کیفیت احمدیوں کی تھی مگر ہمارا صادق الوعد خدا جس کا وعدہ ہے کہ وہ خوف کو امن سے بدل دیتا ہے اور جماعت کو خلافت کے ذریعہ تمکنت دیتا ہے جس نے نہ پہلے کبھی جماعت کو لاوارث چھوڑا نہ آئندہ چھوڑے گا اپنے وعدوں کے مطابق غمگین دلوں کو سہارا دیتے ہوئے ساری جماعت کو پھر ایک ہاتھ پر متحد کر دیا اور ایک بار پھر یہ راز دنیا پر آشکار کر دیا کہ خلافت قومی اتحاد کی جان ہے اور ہماری ساری ترقیاں خلافت کے ساتھ وابستہ ہیں۔اے جانے والے تجھ پر سلام کہ تو نے اپنے عہد کو خوب نبھایا اور اے آنے والے اللہ تعالیٰ تیری حفاظت کرے اور تیرے عہد میں پہلے سے بہت بڑھ کر جماعت کو ترقی ہو۔تیری قیادت میں ہمیں شاہراہ غلبہ اسلام پر آگے ہی آگے بڑھنے کی اور قربانیاں پیش کرنے کی توفیق ملے۔ہمارا رب ہم سے راضی ہو ہم عہد کرتے ہیں کہ ہمیشہ خلافت سے وابستہ رہتے ہوئے حضور کی اطاعت کریں گی۔اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے۔لجنہ اماءاللہ کے قیام پر ساٹھ سال پورے ہو رہے ہیں۔ایک طویل عرصہ ہے جس کا لمحہ لمحہ ممبرات لجنہ اماءاللہ کی قربانیوں پر محیط ہے لیکن ابھی تک اپنا مقصد کہ سو فیصد عورتوں کی اصلاح ہو اور صحیح رنگ میں تربیت ہو حاصل نہ کر سکیں ہر عورت اتنی دینی تعلیم سے واقف ہو کہ ایک مبلغ بن جائے اور اس کا نمونہ قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق ہو جس کو دیکھ کر دوسری خواتین یہ کہنے پر مجبور ہو جائیں کہ ہم ان کو کہتے تو غیر مسلم ہیں لیکن اگر اسلام کا نمونہ دیکھنا ہے تو اس جماعت کی خواتین میں جا کر دیکھو۔یہ مقام ابھی دور ہے اور اس کی طرف توجہ دینے کی بہت ضرورت ہے۔صرف سات سال کا عرصہ جماعت کے قیام کی پہلی صدی ختم ہونے میں رہ گیا ہے۔ان