خطابات مریم (جلد دوم) — Page 320
خطابات مریم 320 خطابات جماعت کی ترقی کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہوا۔ہر دورے میں قریباً ہر ملک میں پریس کانفرنسیں ہوئیں جہاں اسلام کے دشمنوں نے بڑی شوخی سے اسلام پر اعتراضات کئے لیکن ہر جگہ آپ کی اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی اور مدلل و مسکت جوابات سے ان کے منہ بند کر کے اسلام کی فوقیت عیسائیت اور دیگر مذاہب پر ثابت کی۔غرض اللہ تعالیٰ نے ہر قدم پر آپ کو اپنے دورِ خلافت میں فتوحات عطا فرمائیں اور حضرت مصلح موعود کے منہ سے نکلی ہوئی بات بڑی شان سے پوری ہوئی کہ دیکھو میں بھی آدمی ہوں اور جو میرے بعد آئے گا وہ بھی آدمی ہو گا جس کے زمانہ میں فتوحات ہونگی اور ہم خلافت ثالثہ کے بابرکت دور کی عظیم الشان فتوحات کے عینی شاہد ہیں جس کا دائرہ افریقہ سے لے کر سپین تک امریکہ کینیڈا جزائر میں پھیلا ہوا ہے جس سے احمدیت کی سچائی صاف ظاہر ہوتی ہے۔دوصدیوں پر آپ کا دورِ خلافت پھیلا ہوا ہونے کی وجہ سے آپ نے خلیفہ ذوالقرنین کا لقب پایا۔لیکن سب سے بڑا کارنامہ اس مرد مجاہد کا سپین میں مسجد کی تعمیر ہے جس کی وجہ سے آنے والی نسلیں ابدالاباد تک آپ پر سلامتی بھیجیں گی اور آپ کیلئے دعا کریں گی۔ساڑھے سات سو سال سے جس سرزمین پر کبھی خدائے واحد کا نام نہ لیا گیا مسلمانوں کو جہاں سے زبردستی نکالا گیا اور شدید ترین مظالم ان پر توڑے گئے۔ہاں اس سرزمین پر جہاں بڑی شان سے مسلمانوں نے حکومت کی تھی۔بڑے بڑے فلاسفر اور سائنس دان اس سرزمین نے پیدا کئے تھے اور پھر اس شان و شوکت کے بعد دنیا نے وہاں شرک کے اندھیرے بھی دیکھے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے 1970 ء میں رو رو کر اپنے رب سے دعائیں مانگیں اور اپنے آنسوؤں سے اس سرزمین کو تر کر دیا کہ خدا یا کوئی صورت نکال کہ مسلمان پھر اس سرزمین پر اپنے قدم رکھیں پھر تیرا نام یہاں بلند ہو اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعاؤں کو سنا۔تسلی دی کہ آپ کی دعائیں ضرور پوری ہونگی۔مگر اس کے لئے ایک وقت مقرر ہے۔چنانچہ 1980ء میں دس سال بعد وہ وقت آ گیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت ا و رحمت سے بڑی دعاؤں کے ساتھ آپ نے مسجد کا سنگ بنیا د رکھتے ہوئے آئندہ اسلام کی فتوحات کا بیج بویا۔مسجد تعمیر ہوگئی اور 10 ستمبر کو حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس کا پُر سوز دعاؤں سے افتتاح فرمایا۔اس دن جہاں ہر دل خوشی سے اللہ تعالیٰ کی حمد کے