خطابات مریم (جلد دوم) — Page 319
خطابات مریم 319 خطابات سپین میں مساجد تعمیر ہوئیں۔انگلستان میں پانچ نئے مراکز بن چکے ہیں۔جاپان میں نیا مشن ہاؤس نا گویا میں خریدا گیا۔کینیڈا میں کیلگری میں مسجد اور دار التبلیغ کے لئے زمین خریدی جا چکی ہے۔تراجم کچھ شائع ہوئے کچھ ہونے والے ہیں۔اس سکیم کا دوسرا حصہ روحانی پروگرام پر مشتمل تھا یعنی ہر ماہ کے آخر میں ایک روزہ با قاعدگی سے رکھنا اور دعاؤں کا پروگرام۔1974 ء کا سال جماعت احمدیہ کے لئے ایک ابتلاء کا سال تھا کئی لوگ شہید ہوئے کئی گھر لوٹے گئے جماعت کو مصائب کے طوفانوں میں سے گذرنا پڑا۔آپ نے ان دنوں مسکراتے چہرہ کے ساتھ جماعت کو اس طوفان میں سے جس طرح گزار اوہ آپ ہی کا حصہ تھا۔نفرت کے بدلہ پیار، ظلم کے بدلہ احسان کا سبق دیا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہر وقت مسکراتے رہو کوئی تمہاری مسکراہٹ نہ چھین سکے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہاماً فرمایا وَسِعُ مَكَانَكَ إِنَّا كَفيناكَ الْمُسْتَهْزِئين کس شان سے پورا ہوا۔ہم نے خود استہزا کرنے والوں کا انجام دیکھا۔حضرت مصلح موعود نے سچ فرمایا تھا کہ میں اس شخص کو جسے خدا خلیفہ ثالث بنائے گا ابھی سے بشارت دیتا ہوں کہ۔۔۔۔جو بھی اس سے ٹکر لے گا۔ریزہ ریزہ ہو جائے گا۔کس شان سے اللہ تعالیٰ کی یہ بات پوری ہو گئی۔الحمد للہ الحمد للہ۔1978 ء میں لندن میں کسر صلیب کا نفرنس کا انعقاد آپ کا ایک بہت عظیم کا رنامہ ہے۔عیسائیوں کی طرف سے دیئے گئے مناظرہ کے چیلنج کو قبول فرمایا لیکن آج تک مقابلہ کیلئے کوئی تیار نہیں ہوا۔1980 ء کے دورہ میں محبت سب کیلئے نفرت کسی سے نہیں کا نعرہ آپ نے بلند کیا۔جس کو سن کر دنیا چونک پڑی اور خصوصا وہ قومیں جو ہمیشہ ہی طاقتوروں کا شکار ہوتی چلی آئی ہیں۔آپ کی خلافت میں ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کو نوبل پرائز ملا اور حضرت موعود آخر الزمان کی یہ پیشگوئی بڑی شان سے پوری ہوئی کہ :۔” میرے فرقہ کے لوگ اس قدر علم اور معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ اپنی سچائی کے نور اور اپنے دلائل اور نشانوں کی رُو سے سب کا منہ بند کر دیں گے“۔(روحانی خزائن جلد 20 ، تجلیات الہیہ صفحہ 409) سات دورے آپ نے غیر ممالک کے کئے اور ہر دورے کے بعد ان ملکوں کے کام اور