خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 303 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 303

خطابات مریم 303 خطابات ذاتی مخالفتیں ہوں یا خیالات کا فرق ہر چیز پر جماعت کا اتحاد مقدم ہے۔قرون اولیٰ میں مسلمان بہت تھوڑے عرصہ میں غالب آ گئے۔مگر اتحاد قائم نہ رہنے کی وجہ سے آپس میں ایک دوسرے کا گلا کاٹنے لگے اور دنیا نے ان کی وہ تباہی بھی دیکھی کہ اس کے تصور سے بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔نظام جماعت پر اعتراضات، عہد یداروں پر اعتراضات وغیرہ جماعت کی جڑیں کھوکھلی کر دیتے ہیں اور بڑھتے بڑھتے خلافت اور خلیفہ وقت پر بھی اعتراضات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جس کے نتیجہ میں نفاق کا داغ دل کو لگتا جاتا ہے جو بڑھتے بڑھتے اپنی جڑیں مضبوط کر لیتا ہے۔میری بہنو! آپ کی ذمہ داریاں مردوں سے بھی زیادہ ہیں کیونکہ اگلی نسل آپ کی گود سے پروان چڑھ کر ذمہ داریاں اُٹھانے کیلئے آگے آئے گی۔اب یہ آپ کی مرضی ہے کہ آپ اپنی دنیا کو جنت بنا دیں یا جہنم اور آپ اپنی اولا دکو اللہ تعالیٰ کے وفادار عاشق رسول اور اسلام پر جان دینے والے بنا ئیں یا مذ ہب سے دور بھاگنے والے۔جماعت کی خواتین اُس وقت ہی ترقی کر سکتی اور اپنی ذمہ داریوں کو احسن طور پر ادا کر سکتی ہیں جب وہ متحد ہوں ایک دوسرے سے محبت اور پیار کا سلوک کرتے ہوئے ایک دوسرے کی غلطیوں سے چشم پوشی کرتے ہوئے ایک دوسرے سے نیکی اور تقویٰ کے کاموں پر تعاون کرتے ہوئے آگے ہی آگے بڑھتی جائیں مگر ان کی آنکھیں ہمیشہ کھلی رہنی چاہئیں کہ کہیں بھی نفاق کا بیج ذرا سا بھی نظر آ جائے تو اس کو اسی وقت کچل دیں اور پہنچنے نہ دیں لیکن آپس میں رحماء ہونا چاہئے۔نرمی ، پیار کا سلوک ، غلطیوں سے درگزر۔خلافت کے قیام کی بھی یہی غرض ہے کہ متحد ہوں ایک لڑی میں پروئے ہوئے موتی کیسی بہار دیتے ہیں لیکن جب وہ ٹوٹ کر بکھر جائیں تو ان کی کوئی قیمت ہی باقی نہیں رہتی۔پس بہت قدر کر و خلافت کی۔یہ بہت بڑا انعام ہے جو اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو عطا فرمایا ہے۔اپنا تعلق خلافت سے بہت مضبوط رکھو اتنا مضبوط کہ شیطان کا بڑے سے بڑا حملہ اس تعلق کو ذرا سا بھی کاٹ نہ سکے۔یہ صرف عہدہ داروں کا فرض نہیں بلکہ ہر احمدی خاتون کا فرض ہے، اس کی ذمہ داری ہے کہ اپنی اولا د اور اپنے زیر اثر افراد کی صحیح تربیت کرے۔حضرت خلیفۃ امسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ نے لجنہ اماءاللہ کو اس طرف توجہ دلائی کہ تبلیغ کی