خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 301 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 301

خطابات مریم 301 خطابات ”اے خدا میں تجھ کو حاضر و ناظر جان کر تجھ سے سچے دل سے یہ عہد کرتا ہوں کہ اگر ساری جماعت احمدیت سے پھر جائے تب بھی وہ پیغام جو حضرت اقدس۔۔۔۔۔) کے ذریعہ تو نے نازل فرمایا ہے میں اس کو دنیا کے کونے کونے میں پھیلا ؤں گا“۔ان واقعات کو بیان کرنے سے میری یہ غرض ہے کہ لا ہور میں رہنے والی احمدی خواتین اس شہر کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور ان کی بجا آوری میں لگ جائیں۔لاہور میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی کا بھی کثرت سے آنا جانا رہا۔یہیں آپ پر اللہ تعالیٰ نے رؤیا کے ذریعہ ظاہر فرمایا کہ آپ ہی وہ مصلح موعود ہیں جن کی بشارت اللہ تعالیٰ نے حضور بانی سلسلہ احمدیہ کو آپ کی پیدائش سے بھی قبل دی تھی۔آپ نے لاہور میں ایک بہت بڑے جلسے میں اس کا اعلان بھی فرمایا۔حضرت مصلح موعود نے جب مصلح موعود ہونے کا لاہور میں دعوی فرما یا تو احباب لا ہور کو توجہ دلاتے ہوئے فرمایا :۔اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول ہمیشہ قربانیوں کا تقاضا کیا کرتا ہے۔میں یہاں کے دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اس جگہ مصلح موعود کی پیشگوئی کے متعلق اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر انکشاف کا ہونا لا ہور کی جماعت کی ذمہ داریوں کو بہت بڑھا دیتا ہے۔یہیں سے پیغامی فتنہ نے سر اُٹھایا اور یہیں ان کا مرکز ہے۔یہیں سے احراری فتنہ اُٹھا اور یہیں اُن کا مرکز ہے اور بھی جس قدر فتنے اُٹھے ان میں زیادہ تر لا ہورہی کا حصہ ہے۔حضرت اقدس کو بھی زیادہ تر چینج لا ہور ہی سے ملا کرتے تھے اور یا پھر امرتسر سے۔امرتسر سے کم اور لاہور سے زیادہ۔پھر اس وقت پنجاب کا سیاسی مرکز بھی لاہور ہی ہے۔پس بہت بڑی ذمہ داریاں ہیں جو یہاں کی جماعت پر عائد ہوتی ہیں۔ان ذمہ داریوں کو پورا کرنے سے ہی تمہیں ان برکات سے حصہ مل سکتا ہے جو خاص مقامات کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جب خدا کسی مقام کو اپنی برکتوں کے لئے مخصوص قرار دے دیتا ہے تو وہاں کے رہنے والوں کو اپنے انعامات سے بھی زیادہ حصہ دیا کرتا ہے مگر اس میں بھی کوئی محبہ نہیں کہ ان مقامات کے