خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 300 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 300

خطابات مریم 300 خطابات حضور نے حضرت مصلح موعود کا رشتہ بھی لاہور کے ایک مشہور خاندان میں کیا اور یہی وہ شہر ہے جہاں حضور نے اپنا آخری سفر اختیار کیا۔آپ نے اپنا مضمون پیغام صلح مکمل کیا اور اسی شہر میں آپ کا وصال مقد ر تھا۔شد 26 اپریل 1908ء کی صبح حضور کو الہام ہوا ” مباش ایمن از بازی روزگار ( تذکره صفحه: 638) اس پر حضور اس دن سفر ملتوی کر کے ٹھہر گئے اور 27 /اپریل کو لا ہور روانہ ہو گئے۔دوروز بٹالہ ٹھرے۔گاڑی ریز رو ہونے پر 29 / اپریل کو لاہور روانہ ہوئے خواجہ کمال دین صاحب مرحوم کے مکان پر قیام فرمایا۔ان دنوں آپ کی مخالفت بھی شدت کے ساتھ ہوئی اور حضور احباب کو نصیحت فرماتے رہے کہ ان گالیوں کو صبر سے برداشت کرتے رہیں۔۹ رمئی کو آپ کو پھر الہام ہوا۔الرحيلُ ثُمَّ الرَّحِيلُ إِنَّ الله يَحْمِلُ كُلَّ حَمْلٍ ( تذکرہ صفحہ 639) یعنی کوچ اور پھر کوچ۔اللہ تعالیٰ سارا بوجھ خود اٹھائے گا۔اس الہام میں صاف اشارہ وفات کی طرف تھا مگر حضور اپنے کام میں مشغول رہے کسی قسم کی گھبراہٹ، بے چینی کا اظہار نہیں فرمایا۔ظاہری شکل میں الہام پورا کرنے کیلئے آپ نے اپنی قیام گاہ تبدیل فرمالی اور ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کے مکان میں تشریف لے گئے۔اسی لاہور کی سرزمین پر 14 مئی کو آپ کو پھر الہام ہوا مکن تکیه برعم نا پائیدار ( تذکرہ صفحہ 640) جس سے صاف ظاہر تھا کہ وفات کا وقت قریب ہے۔حضور چاہتے تھے کہ لاہور کے رؤسا اور بڑے بڑے لوگوں تک اپنا دعویٰ پہنچائیں۔آپ نے 17 مئی کو ایک دعوتِ طعام کا انتظام کیا اور سب لوگوں کے جمع ہونے پر گیارہ بجے سے ایک بجے تک تقریر فرمائی اور تمام اعتراضات کے جوابات دیئے۔یہ تقریر ایک محدود طبقہ کے لئے تھی بعض معززین نے تجویز پیش کی کہ حضور ایک پبلک لیکچر دیں حضور نے تجویز منظور فرمالی اور ایک مضمون لکھنا شروع فرمایا جس کا عنوان تھا ”پیغام صلح، لیکن ابھی مضمون کے سنائے جانے کیلئے دن بھی مقرر نہیں ہوا تھا کہ 26 رمئی کو حضور کا وصال ہو گیا اور حضور کے وصال کے بعد یہ لیکچر 21 جون کو یو نیورسٹی ہال میں خواجہ کمال دین صاحب نے سنایا۔اور یہی وہ مقام تھا جہاں حضرت مصلح موعود نے 19 سال کی عمر میں حضرت اقدس۔۔۔کی وفات کے بعد آپ کے سرہانے کھڑے ہو کر اپنے رب سے عہد کیا تھا کہ :۔