خطابات مریم (جلد دوم) — Page 298
خطابات مریم 298 خطابات تاریخ احمدیت میں لاہور کی اہمیت اور احمدی خواتین کی اہم ذمہ داریاں مورخہ 16 ستمبر 1982 ء کو لجنہ اماءاللہ لا ہور نے دارالذکر میں اپنا ہال تعمیر کر کے اپنے دفتر کی تکمیل کو مکمل کیا۔اس تقریب پر لجنہ لاہور کی دعوت پر حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ مدظلہ العالی صدر لجنہ اماء الله مرکز یہ ممبرات مجلس عاملہ مرکزیہ کی معیت میں لا ہور تشریف لے گئیں۔اس موقع پر آپ نے جو اہم خطاب فرمایا وہ درج ذیل کیا جاتا ہے۔تشہد اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔آپ نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنے دفتر کی تکمیل کر کے ایک اور منزل کی طرف قدم بڑھایا ہے۔آپ کا نیا انتخاب بھی ہوا ہے اور ہر تبدیلی کے وقت زیادہ ہوشیار زیادہ چوکس رہنے اور قدم آگے بڑھانے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔اس لئے اس موقع پر میں آپ کو آپ کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلانا چاہتی ہوں مگر اس سے قبل جس شہر میں احمدیت کا پیغام ہر عورت تک آپ نے پہنچانا ہے اس کی اہمیت کا ذکر کروں گی تاریخ احمدیت میں لا ہور شہر کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔حضرت اقدس موعود آخر الزمان کا لا ہور کثرت سے آنا جانا رہا اور آپ یہاں قیام فرماتے رہے۔حضور کا لا ہور آنا اپنے والد صاحب کے زمانہ سے شروع ہو گیا تھا۔ابتداء سے ہی ایک ایسی جماعت لاہور شہر میں پیدا ہوگئی تھی جو حضور سے اخلاص رکھتی تھی۔حضرت مصلح موعود کا جب حضور نے عقیقہ کیا تو خاص طور پر لاہور کے دوستوں کو دعوت دی۔دعویٰ ماموریت کے بعد سب سے پہلے آپ جنوری 1892ء میں لوگوں پر اتمام حجت کے لئے لا ہور تشریف لائے اور 31 جنوری کو آپ نے ایک عام لیکچر دیا اور اپنادعویٰ پیش کیا۔یہی وہ شہر ہے جہاں فیروز پور سے واپسی پر 14 / دسمبر 1893 ء کو لاہور اسٹیشن کے پاس