خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 6 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 6

خطابات مریم 6 تحریرات شیرازہ بکھرتے دیکھ کرحد درجہ غمگین تھیں۔غرض کہ ہم احمدی عورتیں یہ عہد کرتے ہوئے دہلی سے پاکستان کے لئے روانہ ہوئیں کہ جہاں بھی قیام نصیب ہو تو اولین فرض اپنے احمدی بھائیوں اور بہنوں کی تلاش کو مدنظر رکھنا ہوگا۔جس شام ہم دہلی سے کراچی (پاکستان) پہنچے اسی شام عید کا چاند نظر آیا۔اس کے تھوڑی دیر بعد خبروں میں اس مقدس بستی سے جدائی کے اعلان نے ہمارے دلوں کو تڑپا دیا۔مغموم صورتیں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کیلئے عید کی نماز کے فرض کی ادائیگی میں کراچی کے گاندھی گارڈن میں جمع ہوئیں۔لجنہ اماء اللہ دہلی کی بچھڑی ہوئی چند ممبرات نے یکجا ہو کر صدر لجنہ اماءاللہ کراچی بیگم صاحبہ چوہدری احمد جان صاحب سے ملاقات کی جنہوں نے نہایت خندہ پیشانی سے بہنوں کو خوش آمدید کہا۔خوش قسمتی سے مجھے گھر بھی حاجی خاں صاحب مرحوم امیر جماعت احمدیہ کراچی کے قریب ہی ملا۔ایک دن ان کی بیگم صاحبہ کی وساطت سے صد ر لجنہ کراچی کے ہاں حاضر ہوئی تالجنہ کراچی کے اجلاسوں کے متعلق معلومات حاصل کر سکوں۔چند اجلاسوں میں شرکت کی توفیق پائی۔ہجرت کے سلسلہ میں جماعت احمدیہ کراچی کی تعداد میں ترقی کی بنا پر ممبرات لجنہ بھی کثیر تعداد کی صورت اختیار کر گئی جس کے لئے کسی بڑی جگہ کی تلاش ہوئی جہاں لجنہ کراچی کے اجلاس ہوسکیں۔خوش قسمتی سے میرے غریب خانہ میں ایسا کمرہ تھا جسے یہ برکت نصیب ہوئی کہ چند سال وہاں اجلاس و جلسے ہوتے رہے۔صدر لجنہ اماءاللہ کراچی نے لجنہ کراچی کی بڑھتی ہوئی تعداد وضروریات کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے دو بچوں کی صحت کی کمزوری کی بنا پر صدارت کے فرائض کی ادائیگی میں معذوری کا اظہار فرمانے پر محترمہ استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ کے زیرانتظام لجنہ کراچی کے عہدہ داروں کا انتخاب عمل میں آیا۔محترمہ موصوفہ اُن دنوں کچھ عرصہ کیلئے کراچی میں قیام فرما تھیں لہذا انہیں کے زیر ہدایت جلسے اور اجلاس ہوتے رہے تا وقتیکہ اُن کی مرکزی لجنہ میں واپسی نہیں ہوئی۔الغرض پاکستان کے قیام پر لجنہ کراچی کی خدمات کا بوجھ مجھے عاجزہ کے کمزور کندھوں پر پڑا جو صدر لجنہ کراچی کی ذمہ داریوں کی شکل میں ظاہر ہوا اپنی کمزوریوں پر غور کرتے ہوئے اُس