خطابات مریم (جلد دوم) — Page 282
خطابات مریم اخلاق 282 خطابات بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت بلند مقام عطا فرمایا تھا لیکن ایک بیوی ہونے کی حیثیت سے آپ بیحد محبت کرنے والی اور نہایت فرض شناس بیوی تھیں۔حسن صورت کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے اعلیٰ درجہ کا حسن سیرت بھی آپ کو عطا فرمایا تھا۔ہر کام میں اپنے عظیم شوہر کی پوری پوری مددگار و معاون تھیں جب سلسلہ کے لئے کسی کام کی ضرورت پڑتی آپ اپنا زیور نکال کر دے دیتیں کہ اس سے خرچ پورے کر لیں۔حضرت اماں جان کے بلند مقام اور آپکی عظمت کے متعلق خود آپ کے لخت جگر حضرت مصلح موعود کے الفاظ سنئے۔ایک خطبہ جمعہ میں حضرت مصلح موعود نے اپنے خاندان کے افراد کو زندگیاں وقف کر نیکی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا: حضرت ( اقدس ) جب فوت ہوئے اس وقت ہمارے پاس اپنے گزارے کا کوئی سامان نہ تھا۔والدہ سے اس کے ہر بچہ کو محبت ہوتی ہے لیکن میرے دل میں نہ صرف اپنی والدہ ہونے کے لحاظ سے حضرت۔۔۔اماں جان ) کی عظمت تھی بلکہ حضرت۔۔۔( اقدس) کی اہلیہ ہونے کی وجہ سے آپکی دوہری عزت میرے قلب میں موجود ہے۔اس کے علاوہ جس چیز نے میرے دل پر خاص اثر کیا وہ یہ ہے کہ حضرت۔۔۔اقدس ) جب فوت ہوئے اس وقت آپ پر کچھ قرض تھا آپ نے یہ نہیں کیا کہ جماعت کے لوگوں سے کہیں کہ حضرت۔۔۔( اقدس ) پر اس قدر قرض ہے یہ ادا کر دو بلکہ آپکے پاس جو زیور تھا اسے آپ نے بیچ کر ( حضور ) کے قرض کو ادا کر دیا۔میں اس وقت بچہ تھا اور میرے لئے ان کی خدمت کرنے کا کوئی موقعہ نہ تھا مگر میرے دل پر ہمیشہ یہ اثر رہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس ) کو کتنا محبت کر نیوالا اور آپ سے تعاون کرنے والا ساتھی دیا ہے“۔(الفضل 10 / مارچ 1944ء) بے حد مہمان نواز تھیں۔ابتداء میں جب مہمان آتے تو خود بھی روٹی پکانے بیٹھ جاتیں اپنے ہاتھ سے پکا کر کھلانے میں آپ بہت خوشی محسوس کرتیں۔پرانے لوگوں میں سے جوخواتین موجود ہیں وہ اس بات کی گواہ ہیں کہ انہوں نے اکثر آپ کو باورچی خانے میں بیٹھے اور کھانا