خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 276 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 276

خطابات مریم 276 خطابات وہ اولاد پیدا کرے جو اِن نوروں کو جنگی میرے ہاتھ سے تخم ریزی ہوئی ہے دنیا میں زیادہ سے زیادہ پھیلا دے اور یہ عجیب اتفاق ہے کہ جس طرح سادات کی دادی کا نام شہر بانو تھا اسی طرح میری یہ بیوی جو آئندہ خاندان کی ماں ہوگی اس کا نام نصرت جہاں بیگم ہے یہ تفاول کے طور پر اس بات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے تمام جہاں کی مدد کیلئے میرے آئندہ خاندان کی بنیاد ڈالی ہے۔روحانی خزائن جلد 15 تریاق القلوب صفحہ 275) حضور سے سیدہ نصرت جہاں بیگم کی شادی خدائی فیصلہ تھا جیسا کہ اس نے الہاماً فرمایا۔میں نے ارادہ کیا ہے کہ تمہاری ایک اور شادی کروں یہ سب سامان میں خود ہی کروں گا اور تمہیں کسی بات کی تکلیف نہیں ہوگی۔(تذکرہ صفحہ 30) ان تمام پیشگوئیوں سے اس عظمت اور شان کا پتہ لگتا ہے جو حضرت سیّدہ نصرت جہاں بیگم کو حاصل ہونے والی تھی۔ایک خاص مقصد سے آپ کی پیدائش ہوئی اور وہ خاص مقصد یہی تھا کہ غلبہ دین کی جو ذمہ داریاں اللہ تعالی نے حضور پر ڈالی ہیں ان میں آپکی شریک کا رہوں اور آپ کے پاک وجود سے ایک نئے خاندان کی بنا ڈالی جائے۔1865ء میں آپ کی پیدائش ہوئی اور 1884ء میں آپ حضرت اقدس کے عقد میں آئیں۔حضرت میر ناصر نواب صاحب یعنی آپ کے والد ملازمت کے سلسلہ میں ضلع گورداسپور کے کئی مقامات پر رہے اور وہیں آپ کی واقفیت حضور کے بھائی مرزا غلام قادر صاحب سے ہوئی۔حضرت نانی اماں یعنی حضرت اماں جان کی والدہ صاحبہ بیمار ہوگئیں تو مرزا غلام قادر صاحب نے مشورہ دیا کہ بغرض طبی مشورہ حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب کے پاس لے جائیں ( جو کہ حضرت اقدس کے والد تھے ) اس طرح پہلی بار آپ کا قادیان آنا ہوا اور وہاں رہ کر آپ کی طبیعت پر حضرت اقدس کی نیکی تقویٰ اور توکل علی اللہ کا بہت اچھا اثر پڑا۔جب حضرت اقدس نے براہین احمدیہ کھی اور طبع ہوئی تو حضرت میر صاحب نے براہین احمدیہ کا ایک نسخہ منگوایا اور اس کا اثر یہ ہوا کہ حضرت میر صاحب نے حضور کو دعا کیلئے خط لکھا جس میں