خطابات مریم (جلد دوم) — Page 275
خطابات مریم 275 خطابات تھا اللہ تعالیٰ نے بشارت دی اور الہاما فر مایا تھا۔ہر چہ باید نو عروسی را ہماں ساماں کنم ، یعنی اس شادی میں تجھے کچھ فکر نہیں کرنا چاہیے ان تمام ضروریات کا رفع کرنا میرے ذمہ رہے گا آپ فرماتے ہیں۔سو قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے اپنے وعدہ کے موافق اس شادی کے بعد ہر ایک بار شادی سے مجھے سبکدوش رکھا اور مجھے بہت آرام پہنچایا کوئی باپ دنیا میں کسی بیٹے کی پرورش نہیں کرتا جیسا کہ اس نے میری کی۔اور کوئی والدہ پوری ہوشیاری سے دن رات اپنے بچہ کی ایسی خبر نہیں رکھتی جیسا کہ اس نے میری رکھی اور جیسا کہ اس نے بہت عرصہ پہلے سے براہین احمدیہ میں یہ وعدہ کیا تھا کریا احمد اسکن انت وزوجك الجنۃ ایسا ہی وہ بجالا یا۔معاش کا غم کرنے کیلئے کوئی گھڑی اس نے میرے لئے خالی نہ رکھی اور خانہ داری کے مہمات کیلئے کوئی اضطراب اس نے میرے نزدیک نہ آنے دیا (روحانی خزائن جلد 15۔تریاق القلوب صفحہ 203) اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس کو مخاطب کر کے فرمایا: " أشْكُرَ نِعْمَتِي رأيت خَدِيجَتِي ، " تذکرہ صفحہ 29۔براہین احمدیہ صفحہ 558) حضور فرماتے ہیں:۔خدیجہ اس لئے میری بیوی کا نام رکھا کہ وہ ایک مبارک نسل کی ماں ہے جیسا کہ اس جگہ میں مبارک نسل کا وعدہ تھا“۔(روحانی خزائن جلد 18 نزول مسیح صلح 524) آپ فرماتے ہیں:۔چونکہ خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ میری نسل میں سے ایک بڑی بنیا د حمایت دین حق کی ڈالے گا اور اس میں سے وہ شخص پیدا کرے گا جو آسمانی روح اپنے اندر رکھتا ہوگا اس لئے اُس نے پسند کیا کہ اس خاندان کی لڑکی میرے نکاح میں لاوے اور اس سے