خطابات مریم (جلد دوم) — Page 260
خطابات مریم 260 خطابات کی خیر خواہی ہے تو کیا ہے۔صرف ایک دعا کا آلہ ہی ہے جو خدا نے ہمیں دیا ہے کیا دوست کے لئے اور کیا دشمن کیلئے “۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 132) اسلام کی ترقی کیلئے دعا کرنا ہم میں سے ہر ایک کا فرض ہے کہ اللہ تعالیٰ اسلام کا غلبہ ہمیں دکھا دے۔حضور فرماتے ہیں کہ:۔”ہمارا اعتقاد ہے کہ خدا نے جس طرح ابتداء میں دعا کے ذریعہ سے شیطان کو آدم کے زیر کیا تھا اسی طرح اب آخری زمانہ میں بھی دعا ہی کے ذریعہ سے غلبہ اور تسلط عطا کرے گا۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 190) حضور نے اپنے اشعار میں جو اپنی اولاد اور اسلام کی ترقی کیلئے دعائیں مانگی ہیں وہ دعا ئیں بھی ہمیں کثرت سے مانگنی چاہئیں کہ جو درد، الحاح اور تڑپ آپ کے الفاظ میں ہے اس سے بڑھ کر تڑپ کسی اور کے الفاظ میں نہیں مل سکتی۔غرض اللہ تعالیٰ کا دعا کی اجازت دینا اس کے بندوں پر ایک بہت بڑا احسان ہے۔یارا نہیں پاتی ہے زباں شکر و ثنا کا احسان سے بندوں کو دیا اذن دُعا کا کیا کرتے جو حاصل یہ وسیلہ بھی نہ ہوتا یہ آپ سے دو باتوں کا حیلہ بھی نہ ہوتا سکتی تسکین دل و راحت جاں مل ہی نہ آلام زمانه سے اماں مل ہی نہ سکتی پرواہ نہیں باقی نہ ہو بے شک کوئی چارا کافی ہے ترے دامنِ رحمت کا سہارا مایوس کبھی تیرے سوالی نہیں پھرتے بندے تری درگاہ سے خالی نہیں پھرتے حضور نے احمدیوں کو بشارت دی کہ اس زمانہ میں بھی خدا تعالیٰ نے دنیا کو محروم نہیں چھوڑا اور ایک سلسلہ قائم کیا ہے اور اس نے اپنے ہاتھ سے ایک بندہ کو کھڑا کیا۔خدا تعالیٰ کے