خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 259 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 259

خطابات مریم 259 خطابات سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دعا کرنی چاہئے اور کون سی دعائیں کرنی چاہئیں۔اللہ تعالیٰ نے ایک کامل اور مکمل دعا قرآن کے شروع میں ہی سکھائی ہے۔اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کہ ہمیشہ سیدھے راستہ پر چلیں کبھی نہ بھنکیں گویا ہمیشہ ثابت قدمی کی دعا اللہ تعالیٰ سے مانگنی چاہئے۔مثلاً ربنا افرغ علينا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ (البقره 251) اور ربنا لا تزغ قلوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَ هَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الوهاب (ال عمران: 9) اسی طرح وہ تمام مسنون دعائیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیں۔کھانا کھانے کی دعا ، کھانا ختم کرنے کی دعا، صبح اُٹھ کر دعا، سوتے وقت کی دعا، نیا کپڑا پہننے کی دعا، بیوی کے پاس جاتے ہوئے دعا، مسجد میں داخل ہونے کی دعا، مسجد سے نکلتے ہوئے دعا، سفر کی دعا، کسی بستی میں داخل ہوتے ہوئے دعا، سواری میں بیٹھتے ہوئے دعا، بلندی پر چڑھتے ہوئے دعا، بلندی سے اُترتے ہوئے دعا ، بیت الخلاء جانے کی دعا، آئینہ دیکھتے ہوئے دعا غرض زندگی کا کوئی مقام اور منزل نہیں صبح اور شام کے ہر کام کے ابتداء اور اختتام کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعائیں کیں جو ہمیں سیکھنی چاہئیں ان کا مطلب آنا چاہئے اپنے بچوں کو سکھانی چاہئیں۔حضور فرماتے ہیں :۔یہ قاعدہ یا درکھو کہ جب دعا سے باز نہیں آتا اور اس میں لگا رہتا ہے تو آخر دعا قبول ہوتی ہے مگر یہ بھی یادر ہے کہ باقی ہر قسم کی دعائیں طفیلی ہیں اصل دعائیں اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے واسطے کرنی چاہئیں باقی دعائیں خود بخو دقبول ہو جائیں گی“۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 602 ) ہر انسان کو مشکلات پیش آتی ہیں اس لئے اپنے لئے ، اپنے بیوی بچوں کے لئے اپنی آئندہ نسل کے لئے دوستوں کے لئے بلکہ دشمنوں کے لئے بھی دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت نصیب کرے۔دعا کا دائرہ بہت وسیع کرنا چاہئے۔یہ سب سے بڑی خدمت ہے جو انسان دوسرے کی کر سکتا ہے۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں۔”ساری عقدہ کشائیاں دعا کے ساتھ ہو جاتی ہیں۔ہمارے ہاتھ میں بھی اگر کسی