خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 258 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 258

خطابات مریم 258 خطابات یہی حال دواؤں کا بھی ہے۔کیا دواؤں نے موت کا دروازہ بند کر دیا ہے ؟ یا اُن کا خطا جانا غیر ممکن ہے مگر کیا باوجود اس بات کے کوئی اُن کی تاثیر سے انکار کر سکتا ہے ؟ (روحانی خزائن جلد 6 برکات الد عاصفحہ 11) کتنی دفعہ دعا اس لئے بھی قبول نہیں ہوتی کہ اس کا قبول ہونا اس مانگنے والے کے لئے فائدہ مند نہیں ہوتا۔مثلاً اگر کسی ماں کا پیارا بچہ بہت روئے گڑ گڑائے کہ وہ آگ اُسے پکڑا دے یا سانپ کا بچہ اس کے ہاتھ میں دے دے یا زہرا سے کھانے دے تو کیا اس کی ماں اس بچہ کی خواہش کو پورا کر دے گی اور اگر بچہ کی ضد پر کوئی احمق ماں پورا کر دے اور بچہ کی جان بچ بھی جائے تو وہ بچہ بڑے ہو کر ماں سے نفرت کرنے لگے گا۔دعا کی کیفیت بالکل اس پیج کی طرح ہوتی ہے جسے ایک زمیندار ایک کھیت میں ڈالتا ہے ظاہراً تو یہی نظر آتا ہے کہ زمیندار نے مٹی کے اندر بیج کو پھینک دیا۔اس وقت دیکھنے والا یہ تصور نہیں کر سکتا کہ یہ بیچ اندرہی اندر پودا کی صورت اختیار کر رہا ہے۔پھوٹے گا ، بڑھے گا اور کسی وقت تناور درخت بنے گا۔یہی حال دعا کا ہے۔جلد باز تھک جاتے ہیں اور صبر کرنے والے مقصد کو پالیتے ہیں۔حضور فرماتے ہیں :۔دیکھو ابراہیم علیہ السلام نے ایک دعا کی تھی کہ اُس کی اولاد میں سے عرب میں ایک نبی ہو پھر کیا وہ اُسی وقت قبول ہو گئی ابراہیم علیہ السلام کے بعد ایک عرصہ دراز تک کسی کو خیال بھی نہیں آیا کہ اس دعا کا کیا اثر ہوا لیکن رسول اللہ ﷺ کی بعثت کی صورت میں وہ دعا پوری ہوئی اور پھر کس شان کے ساتھ پوری ہوئی“۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 415 نیا ایڈیشن) دعاؤں سے انسان کو بہت برکات حاصل ہوتی ہیں۔اس سے انسان میں پاک تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔اندرونی غلاظتیں دھل جاتی ہیں اس کی روح پچھلتی ہے اور آستانہ حضرت احدیت پر گرتی ہے۔دعا کا سب سے بڑا مقام نماز ہے۔اس لئے سب سے زیادہ دعا نماز میں مانگنی چاہئے بلکہ نماز تو خود دعا ہے جس کو یہ نصیب نہیں کہ نماز میں دعا کرے اس کی نماز ہی نہیں دعا نماز کا مغز اور روح ہے۔