خطابات مریم (جلد دوم) — Page 257
خطابات مریم 257 خطابات آوے گی جب تک آنسو نہ ہیں۔سانپ کے زہر کی طرح انسان میں زہر ہے اس کا تریاق دعا ہے جس کے ذریعہ سے آسمان سے چشمہ جاری ہوتا ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 591) دعا کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ دل درد سے بھر جائے۔دعا کے لوازمات رقت ، اضطراب اور گداز کا ہونا ہے۔جو دعا عاجزی اضطراب اور شکستہ دل سے بھری ہوئی ہو وہ خدا تعالیٰ کے فضل کو کھینچ لاتی ہے۔یہی مضمون قرآن مجید کی سورہ نمل میں اللہ تعالیٰ نے بیان b فرمایا ہے کہ وہ قبولیت دعا کو اپنی ہستی کے ثبوت کے طور پر پیش کرتا ہے۔فرماتا ہے۔ا من يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلفاء الْأَرْضِ إِلهُ مِّعَ اللهِ ، قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ (النمل: 63) ترجمہ : بتاؤ تو کون بے کس کی دعا سنتا ہے۔جب وہ خدا سے دعا کرتا ہے اور اس کی تکلیف کو دور کر دیتا ہے اور وہ تو دعا کرنے والے انسانوں کو ایک دن ساری زمین کا وارث بنا دے گا۔کیا اس قادر مطلق اللہ کے سوا کوئی معبود ہے؟ تم بالکل نصیحت حاصل نہیں کرتے۔بڑی زبر دست پیشگوئی بھی اس آیت میں بیان کی گئی ہے کہ اگر تم اپنے رب کے حضور جھکتے رہو گے تو تمہیں اس دنیا کا وارث بنادے گا۔یہ رقت اور اضطراب جس کی دعا کے لئے ضرورت ہے یہ بھی خدا تعالیٰ کے فضل کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی اگر دل پر قبض کی حالت طاری ہو تب بھی یہی دعا کرتا رہے کہ الہی دل تیرے ہی قبضہ اور تصرف میں ہے تو اس کو صاف کر دے۔دعاؤں کی قبولیت کے لئے مامور زمانہ یا اس کے خلفاء کو کثرت سے دعا کے لئے لکھنا چاہئے۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے بڑے لطیف پیرائے میں یہ مضمون بیان فرمایا کہ بیمار شخص اپنا علاج آپ نہیں کر سکتا۔اس کا علاج تو دوسرا ہی کرے گا اس لئے اللہ تعالیٰ نے تطہیر ( یعنی پاک کرنے ) کیلئے یہ سلسلہ قائم کیا ہے اور مامور کی دعا ئیں تطہیر کا بہت بڑا ذریعہ ہوتی ہیں“۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 100) اس سوال کے جواب میں کہ بعض دعا ئیں خطا جاتی ہیں اور ان کا کچھ اثر معلوم نہیں ہوتا۔حضور نے اپنی تصنیف برکات الدعا میں فرمایا ہے کہ :۔