خطابات مریم (جلد دوم) — Page 254
خطابات مریم 254 خطابات اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ صاف ہو۔حضور فرماتے ہیں :۔دو میں اگر کسی کے لئے دعا کروں اور خدا تعالیٰ کے ساتھ اس کا معاملہ صاف نہیں وہ اس سے سچا تعلق نہیں رکھتا تو میری دعا اس کو کیا فائدہ دے گی“۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ دعا کی تھی قبول نہیں ہوئی۔اس ضمن میں یا درکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہمارا رب ہے ہمارا مالک ہے۔کبھی وہ ہماری مانتا ہے کبھی اپنی منواتا ہے۔جہاں وہ بندوں کی دعائیں سنتا ہے وہاں وہ اپنے بندوں کو آزماتا بھی ہے۔کبھی اپنی منواتا ہے۔جہاں وہ بندوں کی دعائیں سنتا ہے وہاں وہ اپنے بندوں کو آزماتا بھی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ:۔وَلَنَبْلُوَ نَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّن الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ و الثَّمَراتِ ، وبشر الصبرين الله (البقره: 156) ترجمہ: اور ہم تمہیں کس قدر خوف اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی کے ذریعہ ضرور آزمائیں گے اور اے رسول تو ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنادے۔قرآن مجید کی کوئی آیت کسی دوسری آیت کے متضاد نہیں بلکہ اسے حل کرتی ہے۔جہاں ایک طرف اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے وعدہ فرماتا ہے کہ مجھ سے مانگو میں تمہیں دوں گا۔وہاں دوسری طرف یہ بھی کہتا ہے کہ تمہاری آزمائش وقتا فوقتا ہوتی رہے گی۔کبھی خوف کے حالات پیدا ہوں گے کبھی غربت کا شکار ہو گے مالی تنگیاں آئیں گی ، کبھی کسی عزیز کی وفات کا صدمہ اُٹھانا پڑے گا، کبھی کاروبار میں نقصان ہوگا، کبھی کوئی حادثہ پیش آ جائے گا اور ایسے موقعوں پر جو صبر دکھا ئیں گے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لئے بشارتیں ہیں گویا اللہ تعالیٰ کبھی مانتا ہے کبھی منواتا ہے یہ دیکھنے کے لئے کہ بندہ خدا تعالیٰ کی تقدیر پر راضی اور شاکر ہے یا نہیں۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں :۔اس سے بڑھ کر انسان کے لئے فخر نہیں کہ وہ خدا کا ہو کر رہے اور جو اس سے تعلق رکھتے ہوں وہ ان سے مساوات بنالیتا ہے کبھی ان کی مانتا ہے اور کبھی اپنی منوا تا ہے۔ایک طرف فرماتا ہے ادْعُوني استجب لكم دوسری طرف فرماتا ہے